ہمارا خدا

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 175 of 255

ہمارا خدا — Page 175

ایسا کیوں ہوتا ہے نہ یہ کہ سراسر ظلم اور تعدی کے ساتھ اور بالکل غیر طبعی طور پر ہم اسے خدا کے عقیدہ کی طرف منسوب کر دیں۔بات یہ ہے کہ بد قسمتی سے اعتراض کرنے والوں کے سامنے مذاہب کی ایسی حالت پیش ہوئی ہے کہ جس میں سوائے مذہب کے نام کے اور کچھ نہیں۔یہ اعتراض موجودہ زمانہ کا مخصوص اعتراض ہے اور بدقسمتی سے اس زمانہ میں تمام مذاہب کے متبعین اپنے مذاہب کی حقیقت سے دُور پڑے ہوئے ہیں اور کوئی ایک مذہب بھی ایسا نظر نہیں آتا کہ جس کے پیرو اپنے مذہب کی حقیقت پر قائم ہوں بلکہ خود مذاہب کی شکل وصورت انسانی دست برد سے بُری طرح مسخ ہو چکی ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ آزاد طبع لوگوں کو مذاہب پر اعتراض کرنے کا موقعہ مل گیا ہے۔حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ دُنیا میں قیام امن اور نسل انسانی کی دماغی تنویر کے لئے مذہب سب ذرائع میں سے بڑا ذریعہ ہے اور جب کبھی بھی لوگ مذہب کی حقیقت پر قائم ہوئے ہیں فتنہ وفساد اور بے جا جنگ وجدال کے خیالات ان میں سے مٹنے شروع ہو گئے ہیں اور وسعت خیالی اور عالی حوصلگی پیدا ہونی شروع ہوگئی ہے۔کسی مذہب کی تاریخ کو دیکھو اور اس کے اس زمانہ کو لے لو جس میں اس کے متبعین اس مذہب کی حقیقت پر قائم نظر آتے ہیں اور پھر تم دیکھو گے کہ وہ لوگ کیسے عالی حوصلہ اور وسیع خیال اور ہمدرد بنی نوع انسان اور امن اور صلح کے خواہاں نظر آتے ہیں اور پھر اس کے مقابل میں اس مذہب کی تاریخ کے اس زمانہ کولو جس میں اس کے متبعین اپنے مذہب کی حقیقت سے دور ہو گئے ہوں اور محض اہمی اور رسمی طور پر مذہب کی طرف منسوب ہوتے ہوں تو تم دیکھو گے کہ تمہیں اس کے متبعین میں تنگ خیالی، کم حوصلگی، بیجا تعصبات ملتی ، چھوٹے چھوٹے اختلافات پر لڑنے جھگڑنے کا خیال اور امن شکنی کی طرف میلان نظر آئے گا۔میں یہ دعوی بلا خوف تردید کرتا ہوں اور ہر مذہب و ملت کے متعلق کرتا ہوں اور میں یقین رکھتا ہوں کہ جو کوئی 175