ہمارا خدا — Page 170
ہیں وہ اس کے مقابل میں اپنی کمیت اور کیفیت کے لحاظ سے کچھ بھی حقیقت نہیں رکھتے۔اور یہ سوال کہ ایک دہر یہ ایسے جذبات کیوں رکھتا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ عموماً اس کی دو وجوہات ہیں۔اول یہ کہ دہر یہ اپنے اردگرد کے مذاہب کی تعلیم سے محسوس طور پر یا غیر محسوس طور پر متاثر ہو کر اس نتیجہ پر قائم ہوتا ہے کہ نسل انسانی کی ہمدردی اور محبت ایک مستحسن فعل ہے جسے اگر وہ اختیار نہ کرے تو وہ لوگوں کی نظر سے گر جائے گا اور اس صورت میں علاوہ اس کی ذاتی بدنامی کے لوگوں کو اس کے عقائد پر بھی یہ حرف گیری کا موقعہ ملے گا کہ چونکہ یہ شخص دہر یہ ہے اس لئے اس کے دل میں بنی نوع انسان کے متعلق محبت و اخوت کے جذبات نہیں ہیں۔پس دانستہ یا نا دانستہ وہ اس بات کی کوشش کرتا ہے کہ کسی ایسے فعل میں جو مسلمہ طور پر مستحسن سمجھا جاتا ہے وہ ان لوگوں سے پیچھے نہ رہے جو خدا کے قائل ہیں۔گویا مقابلہ کا خیال اور بدنامی کا ڈراس سے یہ کام کرواتے ہیں۔مگر ظاہر ہے کہ اس صورت میں اس کے اندر کبھی بھی یہ جذبات اعلیٰ اور اکمل صورت میں ظاہر نہیں ہو سکتے اور وہ بے لوث اور بے غرضانہ اور طبعی رنگ پیدا نہیں ہوسکتا جو ایک خدا پر ایمان لانے والے شخص میں پایا جاتا ہے۔اس کی محبت ایسی ہی محبت ہوتی ہے جیسا کہ ایک سوتیلی ماں اپنے خاوند کو خوش کرنے کے لئے یا محلہ والوں میں بدنامی سے بچنے کے لئے اپنے خاوند کی فوت شدہ بیوی کے بچوں سے کرتی ہے۔مگر دیکھنے والے سمجھ سکتے ہیں کہ کجا ماں کی طبعی محبت جو ایک قدرتی چشمہ کے طور پر اس کے سینہ میں اُبلتی رہتی ہے اور کجا سوتیلی ماں کا ظاہر داری کا سلوک! والشا ذ کالمعدوم۔دوسری وجہ یہ ہے کہ دوسرے لوگوں کی طرح دہر یہ بھی اس بات کو سمجھتا اور محسوس کرتا ہے کہ نسلِ انسانی کی ترقی و بہبودی اور سوسائٹی کے قیام کے لئے یہ ضروری ہے کہ لوگ آپس میں محبت اور سلوک سے رہیں اور باہم تعاون کا طریق اختیار 170