ہمارا خدا — Page 167
(my dog یعنی اگر تمہیں مجھ سے محبت ہے تو میرے گتے سے بھی محبت کرنی ہوگی۔یعنی جن چیزوں کا میرے ساتھ تعلق ہے ان کو بھی اپنی محبت میں شریک کرنا ہوگا۔یہ نشل فطرت انسانی کے صحیح مطالعہ پر مبنی ہے۔واقعی اگر ہمیں خدا پر ایمان اور خدا کے ساتھ تعلق ہے تو پھر یہ قطعاً ناممکن ہے کہ ہمارا دل مخلوقات اور خصوصاً انسان کی محبت سے خالی رہ سکے۔میں اس بات کو قبول کر سکتا ہوں کہ ایک شخص جو خدا پر ایمان لانے کا مدعی ہے وہ اپنے دعوئی میں جھوٹا یا دھوکا خوردہ ہے۔لیکن یہ بات میں ایک لمحہ کے لئے بھی قبول نہیں کر سکتا ( کیونکہ یہ فطرت انسانی کے خلاف ہے ) کہ جو شخص واقعی خدا پر ایمان لاتا ہے اس کا دل مخلوقات کی محبت و ہمدردی کے خیالات سے خالی رہ سکتا ہے اور تاریخ عالم پر نظر ڈالنے سے بھی یہی بات ثابت ہوتی ہے کہ وہ لوگ جو سب سے زیادہ پختگی اور یقین کے ساتھ ایمان باللہ پر قائم ہوئے ہیں وہی وہ لوگ ہیں جو ہمدردی خلق اور محبت بنی نوع انسان کے جذبات میں سب سے اعلیٰ مرتبہ پر تسلیم کئے جاتے ہیں اور جوں جوں لوگ اس ایمان میں کمزور ہوتے جاتے ہیں یہ محبت اور اخوت کے جذبات بھی اُن کے اندر کمزور ہونے شروع ہو جاتے ہیں۔الغرض اس میں ذرہ بھر بھی شک نہیں کہ خدا کا عقیدہ نسل انسانی میں وحدت و اخوت کے جذبات پیدا کرنے کا سب سے مضبوط اور یقینی اور سریع الاثر ذریعہ ہے۔اور چونکہ وحدت و اخوت کے خیالات دنیا میں قیامِ امن اور اقوامِ عالم کی خاطر خواہ ترقی و بہبودی کے لئے نہایت ضروری ہیں اس لئے اس جہت سے بھی ہر عظمند انسان کا یہ فرض ہے کہ وہ اس مفید اور بابرکت عقیدہ کو ہاتھ سے نہ چھوڑے۔وھوالمراد۔اس جگہ کسی شخص کے دل میں یہ شبہ پیدا ہوسکتا ہے کہ خُدا کے منکرین بھی بسا اوقات دوسروں کے ساتھ محبت و ہمدردی کا سلوک کرتے اور رفاہِ عام کے کاموں میں دلچسپی لیتے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان جذبات کے پیدا کرنے کے لئے خدا 167