ہمارا خدا

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 168 of 255

ہمارا خدا — Page 168

پر ایمان لانا ضروری نہیں۔اس کا جواب یہ ہے کہ ہم نے یہ دعویٰ ہر گز نہیں کیا کہ یہ جذبات سوائے ایمان باللہ کے اور کسی ذریعہ سے پیدا ہی نہیں ہو سکتے بلکہ ہم تو خود اس بات کے قائل ہیں کہ بہت سی چیزیں کم و بیش اس کا موجب ہوتی ہیں۔لیکن ہم یہ ضرور کہتے ہیں کہ تمام بنی نوع آدم میں مجموعی طور پر اکیل واتم صورت میں یہ جذبات صرف ایمان باللہ کے نتیجہ میں ہی پیدا ہو سکتے ہیں اور باقی ذرائع اپنی کیفیت اور کمیت میں اس کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔پس ہمارا دعویٰ صرف اس صورت میں غلط ثابت ہو سکتا ہے جب کہ یہ بات ثابت کی جائے کہ یا تو از روئے عقل خدا کا عقیدہ اخوت ووحدت کے خیالات کا موجب ہو ہی نہیں سکتا اور یا یہ کہ تجربہ اور مشاہدہ کی رُو سے یہ دکھایا جائے کہ خدا پر ایمان لانے والوں کی نسبت خدا کا انکار کرنے والے لوگ نسلِ انسانی کے زیادہ ہمدرد، زیادہ خیر خواہ اور زیادہ محبت کرنے والے ہوتے ہیں۔اور جب تک ان دو باتوں میں سے کوئی ایک بات ثابت نہ ہو جائے اُس وقت تک کسی کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ محض اس بنا پر کہ ایک دہر یہ بھی ایک حد تک یہ جذبات رکھتا ہے، یہ غیر طبعی استدلال کرے کہ خدا کا عقیدہ ان جذبات کے پیدا کرنے کا موجب نہیں یا یہ کہ دہریت ان خیالات کے پیدا کرنے کی موجب ہے۔میں نہیں سمجھ سکتا کہ کوئی ہوش و حواس رکھنے والا انسان ایک لمحہ کے لئے بھی اس بات کو قبول کر سکتا ہے کہ خود اپنی ذات میں دہریت ان خیالات کا موجب ہوسکتی ہے یا یہ کہ خُدا کا عقیدہ ایسے جذبات پیدا نہیں کر سکتا۔یہ دونوں باتیں اس قدر بین طور پر غیر طبعی اور خلاف فطرت ہیں کہ کوئی عقلمند آدمی انہیں قبول نہیں کر سکتا۔خدا کا وجود (اگر اسے صحیح صورت میں تسلیم کیا جائے ) وہ مرکزی نقطہ ہے جہاں پہنچ کر تمام مخلوقات بالآخر جمع ہو جاتی ہے اور وحدت اور جمعیت کا خیال اس نقطہ کے ساتھ لازم وملزوم کے طور پر لگا ہو ا ہے اور اسے نظر انداز کر دینے کے یہ معنے ہیں کہ اس کا ئنات کو بغیر کسی مرکز یا منبع 168