ہمارا خدا — Page 166
نسلِ انسانی کے اندرا خوت کا جذبہ پیدا کرسکتی ہے وہ صرف خدا کا خیال ہے اور اس کے سوا کچھ نہیں اور یہ قطعاً ناممکن ہے کہ اس عقیدہ کو الگ کر کے پھر بھی دنیا میں یہ جذبہ عالمگیر صورت میں ایک زندہ حقیقت کے طور پر قائم رہ سکے۔میں یہ نہیں کہتا کہ ہر شخص جو خدا پر ایمان لانے کا مدعی ہے باہم اخوت و وحدت کے جذبات اپنے دل میں رکھتا ہے کیونکہ دنیا میں سینکڑوں ہزاروں لاکھوں چیزیں انسان کی حالت پر اثر ڈالتی رہتی ہیں۔اس لئے ممکن ہے کہ بعض دوسرے بواعث کی وجہ سے ایک خدا پر ایمان لانے والے شخص کا دل بھی ان پاکیزہ جذبات سے خالی ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ کسی آدمی کے دل میں خدا کا خیال ایک ایسا کمزور خیال ہو جو اس کے دل ودماغ پر اتنا اثر پیدا نہ کر سکے کہ جو اخوت و وحدت کے جذبات پیدا کرنے کے لئے ضروری ہے لیکن اس میں شک نہیں کہ اُصولی طور پر خدا کا عقیدہ ان جذبات کے پیدا کرنے والے موجبات میں سب سے اہم اور بڑا ہے۔اور اگر کوئی دوسرے موانع نہ پیش آجا ئیں تو یقیناً ایک مومن باللہ ایک کا فر باللہ کی نسبت نسلِ انسانی کا زیادہ ہمدرد، زیادہ خیر خواہ ، زیادہ محبت کرنے والا ہوتا ہے۔اور ہر وہ شخص جو دل سے خُدا پر ایمان لاتا ہے اس بات کی شہادت دے گا کہ خدا کا خیال اس کے دل میں بڑے زور کے ساتھ اخوت اور وحدت کے جذبات پیدا کرتا رہتا ہے اور نہ صرف پیدا کرتا ہے بلکہ ان جذبات کا اثر اس کے اعمال میں بھی رونما ہوتا ہے اور اگر وہ اپنے نفس کے مطالعہ کا عادی ہو تو اس کا دل پورے یقین کے ساتھ اس بات کو محسوس کرتا ہے کہ اگر نعوذ باللہ خدا کا خیال الگ کر لیا جائے تو پھر کبھی بھی اس کی یہ حالت نہیں رہ سکتی۔اور انسان تو انسان ہے ادنیٰ قسم کے حیوانات بلکہ نباتات اور جمادات کے ساتھ بھی یہ عقیدہ ایک قسم کی محبت اور موانست اور اپنا ہٹ کے جذبات پیدا کرنے کا موجب ہوتا ہے۔انگریزی میں ایک مثل ہے لَوْ می لَوْ مَائی ڈاگ“ Love me love) 66 166