ہمارا خدا

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 165 of 255

ہمارا خدا — Page 165

اور اُن کی جگہ محبت و اخوت اور ایک دوسرے کے لئے ہمدردی اور قربانی کے جذبات پیدا ہونے شروع ہو جاتے ہیں۔خدا پر ایمان لانا بالکل ایسا ہی ہے جیسا کہ اپنے آپ کو ایک ماں باپ کی اولاد سمجھنا۔بلکہ حق یہ ہے کہ خدا کو مان کر پھر بندہ کا تعلق خدا کے ساتھ ایسا گہرا اور ایسا وسیع تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ جس کی مثال دنیاوی رشتوں میں پائی جانی ممکن الغرض خدا پر ایمان لانا باہم محبت و اخوت کے جذبات پیدا کرنے کے لئے ایک ایسا زبردست ذریعہ ہے جس کے مقابلہ میں باقی تمام ذرائع پیچ ہیں۔بیشک جیسا کہ میں نے اوپر بیان کیا ہے ملک اور قوم وغیرہ کے خیالات بھی یہ جذبہ پیدا کرتے ہیں۔لیکن اول تو اُن کا اثر ایسا قوی اور گہرا نہیں ہوتا اور دوسرے یہ کہ وہ صرف ایک محدود حلقہ میں یہ اثر پیدا کر سکتے ہیں اور تمام نسل انسانی کے اندر مشترکہ طور پر ایسے جذبات پیدا کرنا ان کے لئے ناممکن ہے۔بلکہ بسا اوقات ان کا اثر فرقہ بندی اور قوم پرستی اور بے جا تعصب اور حسد کی صورت میں ظاہر ہونا شروع ہو جاتا ہے جو بجائے مفید ہونے کے اُلٹا نقصان دہ ہوتا ہے۔پس صرف خدا کا عقیدہ ہی ایسا ذریعہ ہے جو نسلِ انسانی کے اندر عالمگیر صورت میں وحدت و اخوت کے جذبات پیدا کرنے کا موجب ہو سکتا ہے۔اور اگر ہم خدا کا خیال لوگوں کے دلوں سے الگ کر لیں تو یہ وحدت و اخوت کے خیالات فوراً غائب ہونے شروع ہو جاتے ہیں اور لوگوں کے درمیان صرف ضابطہ اور معاملہ کے خشک تعلقات باقی رہ جاتے ہیں جو کبھی بھی قلوب کے اندر کوئی جذباتی رشتہ پیدا نہیں کر سکتے۔خوب غور کرو کہ اگر خدا کوئی نہیں اور ہر انسان خود بخود اپنے آپ سے ہے اور ایک مستقل اور آزاد ہستی رکھتا ہے تو پھر نہ کوئی اخوت رہ سکتی ہے اور نہ کوئی وحدت بلکہ خود غرضی اور بے جا رقابت اور حسد کا دور دورہ شروع ہو جاتا ہے جو دنیا میں امن شکنی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔وہ بات جو یقینی اور قطعی طور پر تمام 165