ہمارا خدا — Page 143
میں وعدہ دیا گیا تھا اور جس کے ہاتھ پر اسلام کی آخری اور عالمگیر فتح مقدر ہے۔اس دعوی نے جو طوفان بے تمیزی مخالفت کا برپا کیا اور جس طرح تمام مذاہب ایک جان ہو کر آپ کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے وہ اپنی نظیر آپ ہی ہے۔کیا دوسرے مسلمان اور کیا عیسائی کیا ہندو اور کیا آریہ اور کیا جینی اور کیا سکھ۔پھر کیا برہمو اور کیا دیوسماجی وغیرہ وغیرہ سب کے سب اپنے پورے زور کے ساتھ آپ کے خلاف ہاں ایک اکیلے اور بے سروسامان شخص کے خلاف میدان میں اُتر آئے۔اکثر مسلمان علماء نے آپ کو کا فر لحد ضال مضل، بلکہ دجال قرار دیا اور ایک با قاعدہ شرعی فتویٰ کے ذریعہ تمام اسلامی دنیا میں یہ اعلان کر دیا کہ یہ شخص کا فر اور دائرہ اسلام سے خارج بلکہ اسلام کا بدترین دشمن ہے۔اور جو شخص اس کے ساتھ کسی قسم کا تعلق رکھے گا وہ بھی اسلام سے خارج ہو جائے گا۔اور یہ بھی شائع کیا گیا کہ اس شخص کو ہر ممکن طریق سے نقصان پہنچانا نہ صرف جائز بلکہ کار ثواب ہے۔اور بعض نے تو یہاں تک فتویٰ دیا کہ اسلامی شریعت کی رُو سے یہ شخص واجب القتل ہے اور اس کے قتل کرنے والا ثواب کا حقدار ہے۔اور اس قولی مخالفت کے علاوہ جو اپنے اثر کے لحاظ سے محض قولی نہ تھی بلکہ ملک میں ایک خطرناک آگ کے مشتعل کر دینے کا موجب ہوئی عملی طور پر بھی ہر جائز و نا جائز طریق سے آپ کو مغلوب کرنے اور ذلیل و رسوا کرنے کی کوشش کی گئی۔اور مسلمان، عیسائی، ہندو وغیرہ سب اپنے پورے لاؤ لشکر کے ساتھ آپ پر حملہ آور ہو گئے۔سلسلہ احمدیہ کی ابتدائی تاریخ ایک درد ناک کہانی ہے جس کے مطالعہ سے بدن کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ایک طرف ایک اکیلا شخص ہے جس کے پاس بظاہر حالات کوئی جتھہ نہیں، کوئی ساز وسامان نہیں، کوئی مال و دولت نہیں کوئی نام ونمود نہیں۔دوسری طرف گویا دُنیا بھر کی افواج ہر ممکن ساز وسامان سے آراستہ ایک سیل عظیم کی طرح چاروں طرف سے انڈی چلی آتی ہیں مگر وہ شخص ڈرتا نہیں، ہراساں نہیں ہوتا۔143