ہمارا خدا — Page 138
قبائل عرب کو مسلمانوں کے خلاف اکسانا شروع کر دیائی کہ مسلمانوں کی ایسی حالت ہوگئی کہ جس طرح ایک شخص ایسے جنگل میں گھر جائے جس کے چاروں طرف صد ہا میل تک آگ کے شعلے بلند ہورہے ہوں۔چنانچہ ذیل کی تاریخی روایت مسلمانوں کی اُس وقت کی حالت کا نقشہ پیش کرتی ہے۔تاریخ میں آتا ہے: ” جب محمد صلتم اور ان کے اصحاب مدینہ میں آئے اور مدینہ کے بعض لوگوں نے اُن کو پناہ دی تو سارا عرب ایک جان ہو کر اُن کے خلاف اُٹھ کھڑا ہوا۔اس وقت مسلمانوں کی یہ حالت تھی کہ رات کو ہتھیار لگا لگا کر سوتے تھے اور دن کو بھی ہر وقت ہتھیار لگائے پھرتے تھے اس خیال سے کہ نمعلوم کب کوئی دشمن اُن پر حملہ آور ہو جائے اور گھبر اگھبرا کر کہتے تھے کہ دیکھئے ہمیں وہ دن دیکھنے کب نصیب ہوتے ہیں کہ جب ہم امن اور اطمینان کا سانس لے سکیں گے اور سوائے خدا کے ہمیں کسی اور کا ڈر نہیں رہے گا۔“ لے اُس وقت مسلمانوں کی تعداد چند گنتی کے آدمیوں سے زیادہ نہ تھی۔اور وہ بھی عموماً حد درجہ غریب اور کمزور اور بے سروسامان تھے۔اور دوسری طرف اُن کے مقابل میں سارے ملک کی متحدہ طاقتیں اپنے بے انداز سرو سامان سے جمع ہو کر ایک سیل عظیم کی طرح اُٹڈی چلی آتی تھیں تا کہ اس مٹھی بھر جماعت کو جو خدا کا نام لے کر کھڑی ہوئی ہے ہمیشہ کے لئے صفحہ دُنیا سے مٹادیں۔اس بے نظیر جنگ میں جو جو قربانیاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کو کرنی پڑیں اور جن جن مشکلات میں سے گذرنا پڑا وہ ہر سیخ تاریخ میں مذکور ہیں اس جگہ اُن کے اعادہ کی ضرورت نہیں۔مگر ایک واقعہ ایسا ہے کہ جسے میں اس جگہ نظر انداز نہیں کر سکتا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک بڑی جماعت کے ساتھ حجاز کی ایک وادی میں سے گزر رہے تھے کہ اچانک سامنے سے ایک دشمن قبیلہ نے تیروں کی لباب النقول في اسباب النزول 138