ہمارا خدا

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 100 of 255

ہمارا خدا — Page 100

خدامان لیں تو پھر اس کے متعلق یہ سوال پیدا ہی نہیں ہوسکتا کہ اس کا خالق کون ہے۔تیسرا جواب جو میں اس طبہ کا دینا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ قطع نظر اس بات کے کہ خُدا کے متعلق یہ سوال اُٹھایا ہی نہیں جاسکتا کہ اسے کس نے پیدا کیا ہے آؤ ہم تھوڑی دیر کے لئے یہ فرض کر لیتے ہیں کہ خُدا مخلوق ہے اور پھر دیکھتے ہیں کہ اس کا نتیجہ کیا نکلتا ہے۔ظاہر ہے کہ ہر ایک چیز اپنے اندر بعض مخصوص صفات اور خواص رکھتی ہے اور انہی خواص اور صفات کی وجہ سے وہ دوسری چیزوں سے ممتاز نظر آتی ہے۔مثلاً پانی اپنے اندر ایسے خواص رکھتا ہے جو ہوا اور پتھر میں نہیں پائے جاتے اور انہی خواص کی وجہ سے ہم ہوا اور پتھر سے پانی کا امتیاز کرتے ہیں۔اگر ان خواص کو پانی سے الگ کر لیا جائے تو پھر پانی پانی نہیں رہ سکتا۔خلاصہ کلام یہ کہ ہر اک چیز اپنے اندر بعض مخصوص صفات اور خواص رکھتی ہے اور یہی خواص اور صفات ہیں جو اس کی ہستی کو قائم رکھنے والے اور دوسری چیزوں سے اس کے امتیاز کا موجب ہوتے ہیں۔اب جب ہم ایک ہستی کے متعلق خدا کا لفظ استعمال کرتے ہیں تو ہماری عقل اس کے لئے بعض ایسی صفات تجویز کرتی ہے کہ جن کی وجہ سے یہ ہستی خدا کا نام پانے کی حقدار ہوتی اور دوسری چیزوں سے الگ اور ممتاز نظر آتی ہے۔گویا یہ صفات خدائیت کے لئے بطورستون کے ہیں جن کو اگر اس سے الگ کر لیا جائے تو پھر وہ خدا نہیں رہ سکتا۔مثلا عقل ہمیں بتاتی ہے کہ اگر کوئی خدا ہے تو وہ قدیم ہونا چاہیے یعنی وہ ہمیشہ سے موجود ہونا چاہئے۔عقل ہمیں بتاتی ہے کہ اگر کوئی خدا ہے تو وہ غیر فانی ہونا چاہئے یعنی وہ ہمیشہ رہنا چاہئے۔عقل ہمیں بتاتی ہے کہ اگر کوئی خدا ہے تو وہ قائم بالذات ہونا چاہئے یعنی وہ بغیر کسی دوسری ہستی کے سہارے کے خود اپنی ذات میں قائم ہونا چاہئے۔عقل ہمیں بتاتی ہے کہ اگر کوئی خدا ہے تو وہ قادر مطلق ہونا چاہئے یعنی اس کی قدرت کامل ہونی چاہئے اور اس کے کاموں میں کسی کو دخل انداز ہونے کی طاقت نہ ہونی چاہئے۔عقل نہیں بتاتی ہے کہ اگر کوئی خدا 100