ہمارا خدا

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 98 of 255

ہمارا خدا — Page 98

والی کڑی بھی جو اس ابتدائی کڑی کی مخلوق ہے ثابت نہ ہوگی اور جب یہ نیچے والی کڑی ثابت نہ ہوئی تو اُس نیچے والی کڑی سے نیچے کی کڑی بھی ثابت نہ ہوگی۔الغرض ابتدائی کڑی کے ثابت نہ ہو سکنے کی وجہ سے نیچے کی تمام کڑپاں باطل چلی جاتی ہیں۔گویا او پر والی مثال لے کر کہہ سکتے ہیں کہ اگر د کا وجود ثابت نہیں ہے تو لا محالہ ج بھی ثابت نہیں ہے۔اور اگر ج نہیں ہے تو ب بھی نہیں اور اگر ب نہیں تو الف بھی نہیں۔گویا د کے وجود کے انکار سے الف کا انکار لازم آتا ہے حالانکہ کم از کم الف کا وجود جو ہم نے اس دُنیا کا نام رکھا ہے ) مسلمہ طور پر ثابت ہے کیونکہ دُنیا کے موجود ہونے سے کوئی شخص انکار نہیں کر سکتا۔پس ثابت ہوا کہ ایسا طریق استدلال جس کا نتیجہ یہ نکلے کہ اس سلسلہ کی کوئی ابتدائی کڑی ثابت نہ ہو سکے غلط ہے کیونکہ اس سے دُنیا کے موجود ہونے سے انکار کرنا پڑتا ہے۔لہذا ہم مجبور ہیں کہ اس سلسلہ کی کوئی ابتدائی کڑی قرار دیں جس کے یہ معنے ہیں کہ ہم کسی ایسی ہستی پر ایمان لائیں جس کے اوپر کوئی اور ہستی نہیں ہے اور ظاہر ہے کہ ایسی ہستی وہی ہو سکتی ہے جو غیر مخلوق ہو اور اسی کا نام ہم خدا رکھتے ہیں۔خلاصہ کلام یہ کہ اس سلسلہ کو واہ کتنا بھی لمبا کھینچا جائے کسی نہ کسی جگہ اسے بند قرار دینا ہوگا۔یعنی کسی نہ کسی ہستی سے اس سلسلہ کی ابتداء تسلیم کرنی پڑیگی اور یہی ابتدائی ہستی خدا ہے جو غیر مخلوق ہے اور اس کے ماتحت جتنی بھی ہستیاں ہیں خواہ وہ ایک دوسرے سے اپنے طبعی قومی اور فطری طاقتوں میں کیسی ہی اعلیٰ اور اشرف ہوں سب کی سب بلا استثناء مخلوقات کا حصہ اور خدائے واحد کے قبضہ تصرف کے نیچے ہیں۔وهو المراد اس کے بعد میں مختصر طور پر یہ بتانا چاہتا ہوں کہ دراصل یہ سوال ہی غلط ہے کہ خُدا کا خالق و مالک کون ہے۔کیونکہ خُدا کے متعلق ایسا سوال پیدا ہی نہیں ہوسکتا۔بات یہ ہے کہ خدائیت اور مخلوقیت کا مفہوم ایک دوسرے کے بالکل منافی واقع ہوئے ہیں اور 98