ہمارا خدا

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 95 of 255

ہمارا خدا — Page 95

میں اُس کی فطری کمزوریوں کا خیال رکھتے ہوئے ملاطفت اور عفو کا طریق اختیار کرنا چاہئے۔چنانچہ دوسری جگہ حدیث میں آنحضرت ﷺ نے عورت کے متعلق یہی الفاظ استعمال فرمائے ہیں کہ عورت ایک ٹیڑھی پسلی کی طرح ہے اور یہی ٹیڑھا پن جنس نسوانی کا حسن ہے۔پس مردوں کو چاہئے کہ عورت کی اس فطری بھی کا خیال رکھیں اور اس کو اس قدر سیدھا کرنے کی کوشش نہ کریں کہ وہ ٹوٹ ہی جائے اور اپنے جنسی حسن کو کھو بیٹھے۔الغرض قرآن شریف یا صحیح احادیث میں جو پیدائش عالم یا پیدائش آدم کے متعلق الفاظ استعمال کئے گئے ان پر غور کرنے سے پتہ لگتا ہے کہ ان کے متعلق ہر گز کسی قسم کا اعتراض نہیں ہو سکتا۔اور جن لوگوں نے اعتراض کیا ہے یا ان کو قابل اعتراض سمجھا ہے وہ ان لوگوں کی اپنی ناواقفیت یا کم علمی ہے۔اسی طرح میں سمجھتا ہوں کہ دوسری الہامی کتب کی جو تعلیمات قابل اعتراض مجھی گئی ہیں اُن میں سے بھی اکثر کے متعلق غلط فہمی پیدا ہوئی ہے اور ان کے صحیح معنوں کو سمجھا نہیں گیا اور اگر کسی جگہ کوئی اعتراض پیدا بھی ہوتا ہے تو وہ یقیناً بعد کی دست بُرد کا نتیجہ ہے جس سے بد قسمتی سے سوائے قرآن شریف کے کوئی الہامی کتاب نہیں بچی۔ہاں چونکہ خدا کے فضل سے قرآن مجید ہر طرح محفوظ ہے اور سخت سے سخت مخالف بھی اس کے متعلق شہادت دیتے ہیں کہ وہ تحریف سے بالکل پاک رہا ہے اس لئے ہم قرآن شریف کے متعلق یہ بات دعوئی کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ اس کی کوئی بات ایسی نہیں کہ جس پر کوئی معقول اعتراض ہو سکتا ہو۔اور سائنس کی کوئی صداقت قرآن شریف کی کسی تعلیم کے خلاف نہیں اور ایسا ہونا بھی ناممکن ہے کیونکہ قرآن شریف خدا کا قول ہے اور نیچر جس کی مفسر سائنس ہے خدا کا فعل ہے اور خد کا اقول اور فعل آپس میں ٹکر انہیں سکتے۔اس بحث کے ختم کرنے سے قبل ڈارون کے رسوائے عالم نظریہ کے متعلق 95