ہمارا خدا

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 93 of 255

ہمارا خدا — Page 93

آیت قرانی کا صرف اتنا مطلب ہے کہ آدم کی خلقت میں اجزائے ارضی کا خمیر ہے جس کی وجہ سے وہ مادیات کی طرف جلد مائل ہو جاتا ہے اور اسی لئے خدا نے اُس کی بناوٹ میں رُوحانی عنصر کا چھینٹا دے دیا ہے تا کہ اس کے مادی عناصر اُس کی روحانی ترقی میں روک نہ ہو جائیں۔گویا ایک نہایت لطیف مضمون کو جسے قرآن شریف نے حسب عادت استعارہ کے رنگ میں ادا کیا تھا مادی معنوں میں لے کر اعتراض کا نشانہ بنالیا گیا ہے۔مگر میں کہتا ہوں کہ اگر اس آیت کے ظاہری معینے لئے جاویں تو پھر بھی کوئی اعتراض نہیں پڑسکتا کیونکہ قرآن شریف پیدائش عالم کی تفصیلی ماہیت بیان کرنے کے لئے نازل نہیں ہوا بلکہ اس کا کام دنیا کی اخلاقی اور روحانی اصلاح ہے اور اس نے دوسرے مضامین کا صرف اس حد تک ذکر کیا ہے جس حد تک کہ اس کی اس غرض کے لئے ضروری تھا اور باقی باتوں کو چھوڑ دیا ہے۔مثلاً قوانین طب کا بیان کرنا قرآن شریف کا کام نہیں کیونکہ قرآن شریف طب کی کتاب نہیں ہے لیکن چونکہ انسان کی صحت عامہ کا اس کے اخلاق اور دین پر اثر پڑتا ہے اس لئے کہیں کہیں ضروری سمجھ کر شریعت اسلامی نے ایسی اصولی باتوں کی طرف بھی توجہ دلا دی ہے جو حفظانِ صحت کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں۔لیکن صرف اُسی حد تک اپنے بیان کو محدود رکھا ہے جہاں تک کہ اُس کی اپنی غرض و غایت کے ماتحت ضروری تھا۔اس اصول کے ماتحت اگر مذکورہ بالا قرآنی آیت کے معنے کئے جائیں تو کوئی اعتراض نہیں رہتا۔قرآن صرف یہ کہتا ہے کہ خدا نے آدم کو آواز دینے والی تیار شدہ مٹی سے پیدا کیا اور پھر اُس کے اندر اپنے حکم سے جان ڈالی۔جس کا یہ مطلب ہے کہ انسان ایک حیوانِ ناطق ہے جو دوسرے حیوانوں سے ممتاز طور پر صفت نطق کے ذریعہ ترقی کرنے کے لئے پیدا کیا گیا ہے اور دوسرے یہ کہ اس کا جسم اور اُس کی روح دونوں خدا کی مخلوق ہیں جو ایک خاص طریق عمل کے ل سورة الحجر - آیت 34 93