ہمارا خدا

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 90 of 255

ہمارا خدا — Page 90

والوں پر اُن کی مذبوحیت آشکار ہوگئی اور ہزاروں لاکھوں انسانوں نے پادریوں کی اس حالت کو دیکھ کر اور اپنے آپ کو بھی بے بس پا کردہریت کا راستہ اختیار کر لیا۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جب یہی آواز کسی دوسری قوم تک پہنچی تو اس احساس سے کہ ایک مذہبی دستہ پہلے ہی اس حملہ کے سامنے پسپا ہو چکا ہے اُن میں سے بھی بعض لوگوں نے ہمت ہار دی۔اور اس طرح ہر پہلی شکست بعد کی شکست کے لئے راستہ صاف کرتی گئی۔حالانکہ اگر لوگ ذرا غور وفکر سے کام لیتے تو بات نہایت معمولی تھی کیونکہ اول تو بہت سے خیالات جو اس وقت مختلف مذاہب کے متبعین میں خلق عالم اور خلق آدم کے متعلق پائے جاتے ہیں وہ دراصل بعد کے علماء کے اپنے حواشی ہیں اور ان مذاہب کی اصل الہامی کتب یا دیگر مستند کتابوں میں ان کا کوئی پتہ نہیں چلتا اور ظاہر ہے کہ ایسی صورت میں ان کے غلط ثات ہونے سے ہرگز کوئی اعتراض مذہب پر وارد نہیں ہوسکتا۔دوسرے یہ کہ پیدائش عالم کے متعلق بعض خیالات ایسے بھی ہیں جو بعد کی دست برد سے یا بعض صورتوں میں غیر زبانوں میں تراجم کی غلطی کی وجہ سے مذہبی کتب کا حصہ بن گئے ہیں مگر در حقیقت اصل الہامی کتب میں وہ پائے نہیں جاتے تھے۔اور ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ ایسی صورت میں بھی مذہب کی تعلیم پر حقیقتاً کوئی اعتراض وارد نہیں ہوتا۔اور تیسرے یہ کہ ان خیالات میں سے بعض واقعی اصل الہامی کتب میں پائے جاتے ہیں مگر ان کا مطلب سمجھنے میں اکثر لوگوں نے غلطی کھائی ہے اور اس غلط تشریح کی وجہ سے جدید محققین کو اعتراض کا موقعہ مل گیا ہے۔مثلاً قرآن شریف میں یہ واقعی بیان ہوا ہے کہ خدا نے زمین و آسمان کو چھ ایام میں پیدا کیا ہے۔لیکن بعض لوگوں نے اس کے معنے کرنے میں یہ غلطی کھائی ہے کہ ایام سے یہ چوبیس گھنٹے والے دن مراد لے لئے ہیں حالانکہ یوم کا لفظ عربی زبان میں جہاں دن کے معنوں میں آتا ہے وہاں بہت دفعہ اس کے معنے صرف وقت اور زمانے 90