ہمارا خدا

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 60 of 255

ہمارا خدا — Page 60

کیا دلیل ہے؟ اُس نے جواب دیا: الْبَعْرَةُ تَدُلُّ عَلَى الْبَعِيْرِ وَاثَرُ الْقَدَمِ عَلَى السَّفِيْرِ فَالسَّمَاءُ ذَاتُ الْبُرُوْجِ وَالارْضُ ذَاتُ الْفِجَاجِ أَمَا تَدُلُّ عَلَى قَدِيرِ یعنی جب کوئی شخص جنگل میں سے گذرتا ہوا ایک اونٹ کی مینگنی دیکھتا ہے تو یہ مجھ لیتا ہے کہ اس جگہ سے کسی اونٹ کا گذر ہوا ہے اور جب وہ صحرا کی ریت پر کسی آدمی کے پاؤں کا نشان پاتا ہے تو یقین کر لیتا ہے کہ یہاں سے کوئی مسافر گذرا ہے تو کیا تمہیں یہ زمین مع اپنے وسیع راستوں اور یہ آسمان مع اپنے سورج اور چاند اور ستاروں کے دیکھ کر اس طرف خیال نہیں جاتا کہ ان کا بھی کوئی بنانے والا ہوگا ؟ اللہ اللہ ! کیا ہی سچا۔کیا ہی تصنع سے خالی مگر دانائی سے پر یہ کلام ہے جو اس ریگستان کے ناخواندہ فرزند کے منہ سے نکلا، مگر جس کی گہرائی تک یورپ و امریکہ کا فلسفی با وجود اپنی حکمت و فلسفہ کے نہ پہنچ سکا! قرآن شریف خلق و نظام عالم کے متعلق فرماتا ہے:۔افِي اللهِ شَكٍّ فَاطِرِ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ۔إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلاَفِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَالْفُلْكِ الَّتِي تَجْرِي فِى الْبَحْرِ بِمَا يَنْفَعُ النَّاسَ وَمَا أَنْزَلَ اللهُ مِنَ السَّمَاءِ مِنْ مَاءٍ فَأَحْيَابِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَبَثَّ فِيْهَا مِنْ كُلِّ دَابَّةٍ وَتَصْرِيْفِ الرِّيح وَالسَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ لَآيَتٍ لِقَوْمٍ يَعْقِلُوْنَ۔وَفِي أَنْفُسِكُمْ أَفَلَا تُبْصِرُونَ۔اَفَلَمْ يَنْظُرُوا إِلَى السَّمَاءِ فَوْقَهُمْ كَيْفَ بَنَيْنَهَا وَزَيَّتْهَا وَمَالَهَا مِنْ فُرُوْجٍ سورة ابراهيم - ايت 11 سورة الذاريت - آیت 22 60 سورة البقره - آيت 165