ہمارا خدا

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 235 of 255

ہمارا خدا — Page 235

اس نظریہ اور اس کے شاخسانوں پر مبنی ہے۔سب سے پہلے تو یہ جاننا چاہئے کہ یہ نظریہ دراصل اس نظریے کی ایک فرع ہے جو ہم ” قبولیت عامہ کی دلیل کی بحث کے ضمن میں کتاب کے ابتدائی حصہ میں درج کر چکے ہیں اور جس کی بنیاد دراصل اس جذبہ پر مبنی ہے جو عرف عام میں انفی ری آری کامپلکس (Inferioirity Complex) کے نام سے مشہور ہے یعنی کسی زیادہ طاقتور ہستی کے مقابل پر اپنی کمزوری اور فروما ئیگی اور اس طاقتور ہستی کی برتری اور بلند مقامی کا احساس۔اور اس لحاظ سے ہمارا وہ اصولی جواب جو ہم مذکورہ بالا بحث کے دوران میں درج کر چکے ہیں کافی وشافی ہونا چاہیئے اور اس جگہ اس کے اعادہ کی ضرورت نہیں۔(دیکھو کتاب ہذا صفحہ 120 تا 122 ) مگر فرائیڈ کے اس مخصوص نظریہ کے متعلق یہ بات خاص طور پر قابل نوٹ ہے کہ خواہ خود فرائیڈ کو اس بات کا احساس ہوا ہو یا نہ ہوا ہو کیونکہ وہ خود یہودی تھا مگر دراصل فرائیڈ کا یہ خیال مسیحیت کی تعلیم سے پیدا شدہ معلوم ہوتا ہے کیونکہ فرائیڈ نے اسی ماحول میں زندگی گزاری تھی۔چونکہ حضرت مسیح ناصری کی تعلیم میں یہودیت کے خشک فلسفہ مذہب کے مقابلہ پر خدا کو استعارہ باپ کی صورت میں پیش کیا گیا ہے اور بعد میں آنے والے مسیحیوں نے تو سچ سچ خُدا کو باپ قرار دے کر مسیح کو نعوذ باللہ اُس کا خود زادہ جنسی بیٹا تسلیم کیا ہے اور مسیحی ممالک اور مسیحی سوسائٹی میں یہ باپ بیٹے کا تصور ایک نہایت درجہ شائع اور متعارف چیز ہے۔اس لئے فرائیڈ کا دماغ بھی باوجود یہودی النسل ہونے کے اور پھر با وجود ایک قابل سائنسدان اور علم النفس کے ماہر ہونے کے اپنے ماحول کے تاثر سے آزاد نہیں ہو سکا۔اور چونکہ وہ عیسائی نہیں تھا اس لئے تعجب نہیں کہ اس نے اپنے خیال میں حضرت مسیح ناصری کو بھی اسی احساس کمتری (Inferiority Complex) کا شکار سمجھ لیا ہو۔اس ایڈیشن کے صفحات 120 تا 123 (پبلشرز ) 235