ہمارا خدا — Page 234
ہے۔شروع میں ماں کے ساتھ اپنے ابتدائی محبت اور حفاظت کے تعلقات کی وجہ سے بچہ کے لئے خود باپ بھی ایک گونہ خطرہ اور خوف کا رنگ رکھتا تھا اس لئے اس ابتدائی طفولیت کے زمانہ میں وہ اگر ایک طرف اس سے محبت کرتا اور اسے نبظر استحسان دیکھتا ہے تو دوسری طرف اسی نسبت سے اس سے ڈرتا بھی ہے۔۔۔۔جب اس ماحول میں بچہ بڑا ہوتا ہے اور محسوس کرتا ہے کہ اس کے لئے بچپن کی یہ کیفیت ہمیشہ کے لئے مقدر ہو چکی ہے اور بغیر کسی خارجی مدد اور حفاظت کے انتظام کے اس کے لئے غیر معلوم اور غالب طاقتوں کا مقابلہ ممکن نہیں تو وہ ان غیر معلوم اور غالب طاقتوں کو ہی باپ کے تصوّروالی صفات کے ساتھ متصف کر دیتا ہے اور اپنے لئے ایسے خداؤں کا وجود تراش لیتا ہے جن سے وہ ڈرتا بھی ہے اور جنہیں راضی بھی رکھنا چاہتا ہے اور جنہیں وہ اپنی حفاظت کا ذریعہ بھی ٹھہراتا ہے۔پس خدا کے تصور کی یہ توجیہہ کہ بچہ بڑا ہو کر بھی اپنے باپ کا تصور قائم رکھنا چاہتا ہے اور اس دوسری تو جیہہ کے عین مطابق اور گویا اسی کی دوسری صورت ہے کہ اسے انسانی کمزوریوں کے نتائج سے بچنے کے لئے خارجی حفاظت کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔الغرض بچہ کا بچپن میں اپنی بے بسی کے خلاف مدافعانہ رد عمل اس کی پختگی اور جوانی کے زمانہ میں اسی احساس بے بسی کے رد عمل کو ایک مخصوص ہیئت میں ڈھال دیتا ہے اور یہی تبدیلی مذہب اور خدا کے تصور کی اصل بنیاد ہے“۔دوسرے مقامات پر فرائیڈ نے اپنے اس نظریہ کی مزید تشریحات بھی کی ہیں اور اوایڈی پس کامپلکس (Oedipus Complex) کے متعلق بھی بہت کچھ لکھا ہے اور گوفرائیڈ کے اس نظریہ کو خود کئی دوسرے مغربی محققین نے قابل قبول نہیں سمجھا مگر ضروری ہے کہ ہم اس جگہ مختصر طور پر اس اعتراض کا اُصولی جواب بھی درج کر دیں جو فیوچر آف این الوژن صفحہ 42,41 مصنفہ سگمنڈ فرائیڈ 234