ہمارا خدا — Page 222
الغرض یہ دونوں قانون انسان کی الگ الگ قسم کی ترقی کے لئے مقصود ہیں اور ان کا مخلوط ہو جانا یا ایک دوسرے کی خاطر اپنے رستے سے ہٹ جانا بجائے فائدہ مند ہونے کے یقیناً نہایت نقصان دہ اور نسل انسانی کی ترقی کے لئے از حد مہلک ہے۔اور حق یہی ہے کہ جو کچھ بھی اس وقت ان دو قانونوں کے ماتحت دُنیا میں ہو رہا ہے وہ بنی نوع آدم کی مجموعی بہبودی اور ترقی کوملحوظ رکھتے ہوئے عین مناسب اور نہایت درجہ حکیمانہ ہے اور اس سے بہتر کوئی صورت ذہن میں نہیں آسکتی۔اس جگہ یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ جو نیک اور متقی لوگ حادثات کے نتیجہ میں یا کسی اور طرح قانون نیچر کی زد میں آکر بظاہر بے وقت موت کا شکار ہو جاتے ہیں اور انکے لواحقین کو بھی اُن کی اس رنگ کی موت سے غیر معمولی صدمہ یا نقصان پہنچتا ہے اُن کے لئے اسلامی تعلیم سے ہمیں یہ پتہ لگتا ہے کہ اُن کے واسطے اللہ تعالیٰ اپنے خاص فضل سے بعض دوسرے ذرائع رحمت کے پیدا کر دیتا ہے کیونکہ اگر خدا ایک طرف دُنیا کی بہبودی اور ترقی کے خیال سے اپنے قانون کا احترام کرواتا ہے اور عام حالات میں اس کو کسی فرد کی غیر متعلق نیکی کی وجہ سے توڑتا نہیں تو دوسری طرف وہ اپنے نیک بندوں کے لئے ازحد مہربان بھی ہے اور اپنے تعلق میں سب وفاداروں سے بڑھ کر وفادار ہے اس لیے وہ ضرور ایسے موقع پر کسی اور ذریعہ سے ان کے نقصان کی تلافی کر دیتا ہے۔مثلاً دنیوی مصیبت کی وجہ سے آخرت میں ان کو خاص انعام و اکرام کا وارث بنادیتا ہے یا ان کے پسماندگان کو دنیا کی برکات سے حصہ وافر دیدتا ہے یا اور کوئی ایسا طریق اختیار کرتا ہے جسے وہ اپنے رحم اور انصاف کے مطابق مناسب سمجھے اور جس سے کسی دوسرے کا حق بھی ضائع نہ ہو۔اسی طرح جو بچے قانون نیچر کی وجہ سے کمزور اور ناقص پیدا ہوتے ہیں اور ان کی یه خلقی کمزوری یا نقص ان کی رُوحانی ترقی میں روک ہو جاتا ہے تو اس کے متعلق بھی اسلام کی یہی تعلیم ہے کہ شرعی جزا سزا کے وقت خدا تعالیٰ ان کی اس معذوری کو ضرور ملحوظ 222