ہمارا خدا — Page 221
بالکل مسدود ہو جائے گا۔مثلاً اگر انسان کو اس کا نیک ہونا پانی کی غرقابی یا آگ کی سوزش یا بجلی کی تباہی سے بچالے تو انسان کو کیا ضرورت ہے کہ وہ ان چیزوں کے خواص کا مطالعہ کر کے ان کی ماہیت کو سمجھنے اور ان کو قابو میں لانے کی کوشش کرے۔خوب سوچ لو کہ انسان کی تمام مادی ترقی صرف اس اصل کی وجہ سے ممکن ہو رہی ہے کہ وہ جب تک قانون نیچر کا مطالعہ کر کے اپنے لئے آرام اور بہبودی اور ترقی کے دروازے نہیں کھولتا اُس کو آرام اور بہبودی اور ترقی میسر نہیں آتے اور اسی لئے وہ ہر وقت نیچر کے مطالعہ اور خواص الاشیاء کی دریافت میں لگا رہتا ہے۔انگریزی میں ایک مثل ہے کہ ضرورت ایجاد کی ماں ہے۔جس کا مطلب یہ ہے کہ جب انسان کسی ضرورت سے مجبور ہو جاتا ہے تو تبھی وہ نئی چیزوں کی ایجاد کی طرف توجہ کرتا ہے۔پس اگر انسان کی مادی ضروریات محض قانونِ شریعت کی پابندی کی وجہ سے پوری ہو جایا کریں تو یقیناً نتیجہ یہ ہو کہ انسان کی مادی ترقی بالکل رُک جائے اور دنیوی علوم کے تمام دروازے اس پر بند ہو جائیں کیونکہ اس صورت میں کوئی شخص مادی امور کی دریافت اور حقائق الاشیاء کی تحقیق میں وقت اور توجہ صرف نہیں کر سکتا۔پس ان دونوں قوانین کا ایک دوسرے کے کام میں دخل انداز نہ ہونا خدا کی طرف سے ایک عین رحمت کا فعل ہے۔اور یہ حادثات و غیرہ بھی اسی رحمت کا پیش خیمہ ہیں کیونکہ اگر دنیا میں کسی ایک فرد پر کوئی حادثہ پیش آتا ہے تو اس حادثہ کے نتیجہ میں جو بیداری اور اس قسم کے حادثات سے بچنے کا علاج دریافت کرنے کی طرف جو توجہ پیدا ہوتی ہے وہ آئندہ کے لئے لاکھوں کروڑوں انسانوں کو فائدہ پہنچا جاتی ہے اور ایک جان یا دس ہیں جانوں کے ضائع جانے سے لاکھوں کروڑوں انسانوں کی جانیں آئندہ پیش آنے والے خطرات سے محفوظ ہو جاتی ہیں۔Necessity is the mother of invention 221