ہمارا خدا — Page 220
پیش کرتی ہے۔اسی طرح کسی بچے کا کمزور پیدا ہونا ایک نیچر کا واقعہ ہے اور اس کے لئے کوئی شرعی وجہ تلاش کرنا فضول ہے بلکہ اس کے علاج کے لئے قانون نیچر ہی کی طرف رجوع کرنا چاہئے اور والدین کو اپنی بیماری کا علاج یا اپنی کمزوری کا ازالہ یا اپنے نقص کی تلافی یا اپنے ماحول کی درستی کی طرف مائل ہونا چاہئے۔انسانی ترقی کیلئے قانون نیچر کا قانون شریعت سے جدا اور آزاد رہنا ضروری ہے۔اگر کوئی شخص یہ اعتراض کرے کہ قانون نیچر کیوں قانونِ شریعت کا احترام نہیں کرتا یعنی ایسا کیوں نہیں ہوتا کہ جب ایک شخص نیکی اور تقویٰ اختیار کرتا ہے تو وہ حادثات قضاء و قدر سے بھی محفوظ ہو جائے تو اس کا پہلا جواب تو یہی ہے کہ ایسا اس لئے نہیں ہوتا کہ دونوں قانون مختلف ہیں اور دونوں کا الگ الگ کام ہے لیکن جو صورت معترض نے تجویز کی ہے اس سے دونوں قانون ایک ہو جاتے ہیں اور الگ الگ قانون کا وجود قائم نہیں رہتا حالانکہ دو الگ الگ قانونوں کا پایا جانا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ دونوں قانونوں کا الگ الگ وجود مقصود ہے۔دوسرا اور حقیقی جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ دو قانون انسان کی دو قسم کی ترقیوں کے لئے جاری فرمائے ہیں۔یعنی قانون نیچر انسان کی مادی ترقی کے لئے بنایا گیا ہے اور قانونِ شریعت اس کی اخلاقی اور روحانی ترقی کے لئے ہے اور خدا کا منشاء یہ ہے کہ انسان ہر جہت سے ترقی کرے۔ایسی صورت میں اگر ایسا ہو کہ کوئی شخص محض قانونِ شریعت کی پابندی اختیار کرنے کی وجہ سے قانونِ نیچر کا جرم کرتے ہوئے بھی اس کے بداثرات سے بچ جائے تو یقیناً نتیجہ یہ ہوگا کہ انسان کی مادی ترقی کا دروازہ 220