ہمارا خدا

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 215 of 255

ہمارا خدا — Page 215

خدا نہیں ورنہ یہ اندھیر نگری اور یہ ظلم نہ ہوتا۔خوب سوچ لو کہ یہ اعتراض بالکل بودا اور کمزور ہے کیونکہ جو شخص ڈوب گیا وہ گو قانون مذہب کا پابند تھا مگر قانون نیچر کا وہ مجرم بھی تھا۔اور اس لئے اس نے نیچر کے قانون کے ماتحت سزا پائی اور دوسرا آدمی باوجود قانون مذہب کا مجرم ہونے کے قانون نیچر کی سزا سے بچ گیا۔کیونکہ اس نے قانون نیچر کا کوئی جرم نہیں کیا تھا۔اسی طرح جو لڑکی جل کر مرگئی وہ قانون نیچر کی زد میں آگئی تھی اسی لئے وہ ہلاک ہوگئی اور چونکہ یہ جزا سزا قانون نیچر کی تھی اس لئے قانونِ شریعت کا پابند ہونا اُسے بچانہیں سکا مگر دوسری لڑکی باوجود قانونِ شریعت کی مجرم ہونے کے قانون نیچر کی سزا سے بچی رہی کیونکہ اس نے قانون نیچر کا کوئی جرم نہیں کیا تھا۔وعلیٰ ھذا القیاس۔پس یہ کوئی اندھیر نگری نہیں اور نہ کوئی ظلم و ستم ہے بلکہ یہ تو نیچر کی سیاست کا ایک طبعی نتیجہ ہے جوسب کے لئے برابر ہے۔اندھیر تو تب ہوتا کہ نیچر کا کوئی قانون نہ ٹوٹتا اور پھر بھی نیچر سزا دیتی یا یہ کہ قانون ٹوٹتا شریعت کا مگر سزا نیچر دیتی۔یا یہ کہ قانون ٹوٹتا نیچر کا اور سزا شریعت دیتی۔مگر ایسا نہیں ہوتا بلکہ جو ہوتا ہے وہ صرف یہ ہے کہ نیچر کا قانون ٹوٹتا ہے تو نیچر سزا دیتی ہے اور شریعت کا قانون ٹوٹتا ہے تو شریعت سزا دیتی ہے۔(سوائے مستثنیات کے جن کی بحث ایک الگ مستقل مضمون ہے اور اس جگہ اس کے ذکر کی ضرورت نہیں ) اور کوئی عظمند اس بات کو موجب اعتراض یا خلاف انصاف نہیں سمجھ سکتا۔میں تو حیران ہوتا ہوں کہ معترضین کس عقل و دانش کے مالک بنکر اعتراض کی طرف قدم بڑھاتے ہیں اور اس کارروائی کو جو سراسر حکمت پر مبنی ہے اور جس میں کوئی قانون نہیں ٹوٹتا اور نہ دو مختلف قانون آپس میں ٹکراتے ہیں انصاف کے خلاف سمجھتے ہیں۔دراصل بد قسمتی سے سارا دھوکا یہ لگا ہے کہ واقعہ تو قانون نیچر کے ماتحت پیش آتا 215