ہمارا خدا

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 21 of 255

ہمارا خدا — Page 21

سینہ سپر ہوتا ہے مگر پیچھے نہیں ہٹتا۔وہ راتوں کو جاگتا ہے اور دن کو دیوانہ وار پھرتا ہے اور اپنے زندگی کے خون کو آنکھ کے رستے بہا دیتا ہے مگر دم نہیں مارتا۔کیا کوئی ہے جو یہ کہے کہ دنیا میں یہ طاقت موجود نہیں ؟ مگر اس عظیم الشان طاقت کو کس نے دیکھا ہے؟ کس نے سنا ہے؟ کس نے سونگھا ہے؟ کس نے چکھا ہے؟ کس نے چھوا ہے؟ اسی طرح وقت۔زمانہ قوت عقل۔شہوت غضب۔رحم وغیرہ ایسی چیزیں ہیں جن کو تم مانتے ہو مگر جن کو تمہارے حواس ظاہری نے کبھی براہ راست محسوس نہیں کیا۔بات یہ ہے کہ جیسا کہ میں نے اوپر بیان کیا ہے دنیا میں مختلف چیزوں کے متعلق علم حاصل کرنے کے لئے مختلف ذرائع مقرر ہیں۔کسی چیز کا علم دیکھنے سے حاصل ہوتا ہے کسی کا سننے سے، کسی کا سونگھنے سے، کسی کا چکھنے سے، کسی کا چھونے سے اور کسی کا دوسری کسی جس کے ذریعہ سے، اور بہت سی چیزیں ایسی ہیں جن کا علم ظاہری حواس کے ذریعہ سے براہِ راست حاصل ہوتا ہی نہیں بلکہ ان کا علم اُن کے اثرات و نتائج کے مشاہدہ سے حاصل ہوتا ہے اور یہ سارے علم خواہ وہ کسی ذریعہ سے حاصل ہوں ایک سے ہی یقینی اور قابلِ اعتماد ہوتے ہیں۔اور یہ ایک طفلانہ خیال ہے کہ جب تک ہم فلاں چیز کا علم فلاں ذریعہ سے حاصل نہ کر سکیں گے ہم اس کے وجود کے قائل نہیں ہونگے۔اصل مقصود تو حصول علم ہے خواہ وہ کسی ذریعہ سے حاصل ہو۔اگر وہ حاصل ہو جاتا ہے تو ہار مطلب حل ہو گیا۔کیا کوئی شخص کہ سکتا ہے کہ میں تو تب مانوں گا کہ میں نے فلاں کمرہ کا اندرونی حصہ دیکھا لیا ہے جبکہ تم اس کمرے کی چھت پھاڑ کر مجھے اس میں چھت کے راستہ اندر داخل کرو گے اور اگر تم دروازے کے راستہ داخل کرو گے تو پھر میں نہیں مانوں گا۔ایسے شخص سے میں یہ پوچھونگا کہ بندہ خدا تمہارا مقصود چھت کو پھاڑنا ہے یا کمرے کے اندر جانا؟ اگر تم کمرے کے اندر داخل ہو جاتے ہو تو یہ سوال لا یعینی ہے کہ چھت پھاڑ کر اوپر سے کمرہ کے اندر کو دتے ہو یا کہ دروازہ کے راستے داخل ہوتے ہو۔21