ہمارا خدا — Page 209
پیش نہیں کیا جاسکتا۔بلکہ اس سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس دُنیا کے اوپر ایک مدرک بالا رادہ حکیم و علیم ہستی موجود ہے جو ایسے حکیمانہ طور پر ایک خاص غرض و غایت کے ماتحت دنیا کے کارخانہ کو چلا رہی ہے۔باقی رہا یہ سوال کہ جو چیزیں ضائع ہوتی ہیں وہ محض اس قانون کے نتیجہ میں ضائع ہوتی ہیں کہ کمزور چیز گر جاتی ہے اور مضبوط باقی رہتی ہے اور اس میں کسی بالا ہستی کا ہاتھ تلاش کرنا ایک وہم سے بڑھ کر نہیں۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہم ہر گز قانون کے منکر نہیں بلکہ ہم تو خود اس سلسلۂ اسباب و علل کے قائل اور اس کے پیش کرنے والے ہیں مگر اس قانون اور سلسلہ اسباب و علل سے یہ بات ہر گز ثابت نہیں ہو سکتی کہ اس کے اوپر کوئی خُدا نہیں ہے۔بلکہ جیسا کہ اوپر مفصل بیان کیا جاچکا ہے کہ خود اس سلسلہ اسباب و علل کا وجود ایک بالا ہستی کی طرف اشارہ کر رہا ہے اور ان اسباب کا مجموعی نتیجہ ایک زائد روشن دلیل ہے۔اس جگہ میں پھر دوبارہ یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ مسئلہ ارتقاء جس صورت میں کہ ڈارون وغیرہ نے پیش کیا ہے ہرگز سائنس کی کوئی ثابت شدہ حقیقت نہیں بلکہ صرف ایک تھیوری ہے جس کی بعض تفصیلات سے بہت سے دوسرے سائنسدان اتفاق نہیں کرتے بلکہ اب تو یہ تھیوری اپنی موجودہ صورت میں بالکل رڈ ہی کی جاچکی ہے۔دہریت کی چوتھی دلیل اور اس کا رڈ چوتھی دلیل جو دہریوں کی طرف سے ہستی باری تعالیٰ کے خلاف پیش کی جاتی ہے وہ بھی مسئلہ ارتقاء پر مبنی ہے۔یعنی کہا جاتا ہے خلق عالم اور خلق آدم کے متعلق جو تعلیم مذاہب نے پیش کی ہے وہ سب مسئلہ ارتقاء کی روشنی میں غلط اور باطل ثابت ہوگئی ہے اور اس لئے یہ معلوم ہوا کہ مذاہب کی تعلیم جُھوٹی اور خلاف واقعہ ہے اور جب 209