ہمارا خدا — Page 200
میں خدا کی ہستی کی ایک دلیل ہیں کیونکہ وہ خدا کی صفات کا ظل ہیں انہیں مطابق احکام شریعت صحیح طریق پر استعمال کر کے خدا کے رنگ میں رنگین ہونے کی کوشش کی جائے۔مثلاً محبت ایک فطری جذبہ ہے اور اس کا صحیح استعمال یعنی ایسا استعمال جو خدا کے رنگ میں انسان کو رنگین کر دے ایک اعلیٰ خلق ہے، وفاداری ایک فطری جذبہ ہے اور اس کا صحیح استعمال ایک اعلیٰ خلق ہے ، رحم ایک فطری جذبہ ہے اور اس کا صحیح استعمال ایک اعلیٰ خلق ہے ، غضب ایک فطری جذبہ ہے اور اس کا صحیح استعمال ایک اعلیٰ خلق ہے، غیرت ایک فطری جذبہ ہے اور اس کا صحیح استعمال ایک اعلیٰ خلق ہے، اور اسی طرح اور بہت سے فطری جذبات ہیں جن کا صحیح استعمال ایک اعلیٰ خلق ہے۔اور یہ سب جذبات فطرت انسانی کے اندر خالق فطرت کی طرف سے اپنے خلق ہونے کی حیثیت سے ودیعت کئے گئے ہیں اور جہاں تک انسان کا تعلق ہے یہ سب جذبات اپنی ذات میں نہ اچھے ہیں اور نہ بُرے بلکہ محض سادہ فطری جذبات ہیں اور صرف ان کا صحیح یا غلط استعمال ان کو اچھا یا بر اخلق بناتا ہے اور اس صحیح اور غلط استعمال کا معیار یہ ہے کہ انسان کے ان ا فطری جذبات کا اظہار خدائی صفات کے رنگ میں ہو جس کے علم کا ذریعہ خدا کا فعل یعنی نیچر اور خدا کا قول یعنی شریعت ہے اور اس کے سوا علم الاخلاق کی پیچیدہ گتھیوں کا اور کوئی حل نہیں۔اور یہ ایک عظیم الشان فائدہ ہے جو ایمان باللہ سے دُنیا کو حاصل ہوسکتا ہے۔اسی طرح اور بھی بہت سے فوائد ہیں لیکن اس جگہ صرف ان فوائد کے بیان پر ہی میں اس بحث کو ختم کرتا ہوں۔مگر میں یہ بات پھر بتا دینا چاہتا ہوں کہ یہاں صرف ان فوائد کی بحث تھی جو عمومی طور پر ایمان باللہ کے عقیدہ سے دُنیا کو حاصل ہو سکتے ہیں اور ان عظیم الشان مخصوص فوائد کا ذکر نہیں جو ایک مومن باللہ قرب الہی میں ترقی کر کے روحانی یا اخلاقی یا علمی طور پر حاصل کر سکتا ہے اور جو خدا کی مقرب جماعتوں کو حاصل ہوا 200