ہمارا خدا — Page 199
اور سب ایک دوسرے پر اعتراض کرتے ہیں اور نتیجہ دیکھو تو کچھ بھی نہیں۔لیکن اس کے مقابلہ میں اگر ہم ایمان باللہ کے دائرہ میں داخل ہو کر غور کریں تو بات بالکل صاف ہو جاتی ہے اور وہ یہ کہ انسان خود بخود اپنے آپ سے نہیں ہے کہ اس کے اخلاق کے معیار کے لئے ہمیں اپنی طرف سے کسی سوچ بچار اور غور وفکر کی ضرورت ہو اور ہم اس بات کی تلاش میں اپنی توجہ صرف کریں کہ اس کے لئے کونسا فعل اور کونسا طریق اچھا سمجھا جانا چاہئے۔بلکہ وہ ایک بالا ہستی کا پیدا کردہ ہے اور ظاہر ہے کہ اس صورت میں انسان کے لئے اس بالا ہستی کے سوا اور کوئی نمونہ قابل تقلید نہیں ہوسکتا۔اور اس کے اخلاق کا معیار سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ اپنے آپ کو اپنے خالق و مالک کی صفات کے رنگ میں رنگین کرے۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ :۔تَخَلَّقُوْا بِأَخْلَاقِ اللَّهِ 66 یعنی اے لوگو ! تم اپنے اخلاق کو خدا کے اخلاق کے مطابق بناؤ۔“ اور اسی لئے اسلام یہ بھی تعلیم دیتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے انسان کو اپنی صفات کا ظلت بنا کر پیدا کیا ہے اور جملہ صفات (سوائے ان صفات کے جو الوہیت کے لیے مخصوص ہیں ) انسان کی فطرت کے اندر ایک چھوٹے اور محدود پیمانہ پر بطور ختم کے ودیعت کر دی ہیں اور پھر ان فطری تخموں کی صحیح آب پاشی اور صحیح پرورش اور ترقی کے لئے اس نے اپنے پاک بندوں کے ذریعہ اپنی طرف سے وقتاً فوقتاً ایک ضابطہ عمل نازل فرمایا ہے جسے شریعت کہتے ہیں اور یہی وہ معیار اخلاق ہے جو دُنیا کی حقیقی اصلاح اور ترقی کا موجب ہوسکتا ہے اور اس کے بغیر کوئی اور معیار تلاش کرنا اپنی محنت کو ضائع کرنا ہے۔خوب سوچ لو کہ اخلاق کا کوئی صحیح معیار اس کے بغیر قائم نہیں کیا جاسکتا کہ انسان اپنے خالق و مالک کی صفات و اخلاق کے ساتھ اپنے آپ کو متصف کرے۔جس کی عملی صورت یہ ہے کہ جو فطری جذبات انسان کے اندر پائے جاتے ہیں اور جو خود اپنی ذات 199