ہمارا خدا — Page 176
بھی دیانتداری کے ساتھ اس مسئلہ میں تاریخی تحقیق کرے گا وہ اس نتیجہ پر پہنچے گا جو میں نے اس جگہ بیان کیا ہے۔میں بفضلہ تعالیٰ ایک مسلمان ہوں اور آنحضرت صلعم (فداہ نفسی) کے ادنی ترین خادموں میں اپنے آپ کو شمار کرنا اپنے لئے سب فخروں سے بڑھ کر فخر سمجھتا ہوں مگر میں اس افسوس ناک اعتراف کے بغیر نہیں رہ سکتا کہ آجکل دوسری قوموں کی طرح مسلمان کہلانے والے بھی اس خطرناک اور مہلک مرض میں مبتلا ہیں کہ جو تنگ خیالی کے نام سے موسوم ہے اور بے جا تعصبات ملی نے ان کی انسانیت کے اعلیٰ اور اشرف جذبات کو مغلوب کر رکھا ہے اور بات بات میں جھگڑ نا اور لڑ نا اور بیہودہ اختلافات پیدا کر کے امن شکنی کی طرف مائل ہو جانا ان کی عادت میں داخل ہو گیا ہے۔مگر کیا یہ اسلام کا قصور ہے؟ ہر گز نہیں۔جب مسلمان اسلام پر قائم تھے اور اسلامی روح ان کے اندر زندہ تھی اس وقت ان کے اندر یہ باتیں نہ تھیں بلکہ اس وقت وہ ایک روشن خیال وسیع حوصلہ بنی نوع آدم کی خیر خواہ اور ہمدردامن پسند صلح جو اور دوسروں کی خاطر قربانی اور ایثار دکھانے والی قوم تھے جس نے اپنے عالمگیر نور کی کرنوں سے دُنیا بھر میں اُجالا کر رکھا تھا مگر اب اس عالیشان عمارت کے کھنڈرات ہیں اور ہم ہیں ! اسی طرح دوسری قوموں کا حال ہے۔عیسائیت جب شروع شروع میں قائم ہوئی تو اس کے متبعین نے قربانی و ایثار اور بنی نوع انسان کی ہمدردی کا بہت اچھا نمونہ دکھایا اور امن پسندی اور صلح جوئی کا طریق رکھا لیکن جب مسیحی لوگ عیسائیت کی اصل تعلیم اور صیحی رُوح سے دُور جا پڑے تو پھر انہوں نے بھی دُنیا میں ظلم و ستم ، کشت وخون اور بیجا تعصبات مذہبی کا وہ طوفان برپا کر دیا کہ الامان! چنانچہ ریفر میشن (Reformation) کے زمانہ کی تاریخ ہمارے اس دعویٰ کا کافی ثبوت ہے اور غالبًا کسی قوم کے حالات میں ایسی تنگ خیالی اور بے جا تعصبات اور امین شکنی اور قتل و غارت کا منظر نظر نہیں آتا جو کہ حضرت مسیح علیہ السلام کے نام نہاد متبعین نے 176