ہمارا خدا

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 169 of 255

ہمارا خدا — Page 169

کے تسلیم کیا جائے۔اور اس خیال کے آتے ہی وحدت ویگانگت کے خیالات کا فور ہونے شروع ہو جاتے ہیں۔کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ ایک باپ کی اولاد ہونا وحدت واخوت کا موجب نہیں ہو سکتا بلکہ مختلف باپوں کی اولا دہونا اس کا موجب ہوتا ہے؟ ہرگز نہیں ہر گز نہیں۔پس اگر کبھی مختلف باپوں کے بیٹے آپس میں صلح اور محبت کا طریق رکھتے ہیں تو ہم اس سے یہ غیر طبعی نتیجہ نہیں نکال سکتے کہ ایک باپ کی اولا د ہونا محبت واخوت کا موجب نہیں ہوتا بلکہ اس صورت میں ہم یہ سمجھیں گے کہ اس جگہ کوئی اور موجبات اثر ڈال رہے ہیں جنہوں نے باوجود مختلف باپوں کے بیٹے ہونے کے اُن کو ایک نقطہ پر جمع کر رکھا ہے نہ یہ کہ مختلف باپوں کی اولا د ہونے نے یہ اثر پیدا کیا ہے۔اسی طرح ہر عقلمند تسلیم کرے گا کہ اگر یہی مختلف باپوں کے بیٹے جنہیں بعض وجوہات نے باوجود اس اختلاف کے وحدت و یگانگت کی لڑی میں پرورکھا ہے ایک ماں باپ کی اولا د ہوتے تو پھر اُن کی باہمی محبت و اخوت بہت زیادہ اکمل و اتم صورت میں ظاہر ہوتی۔پس اگر خدا کے منکرین بھی بعض حالات میں نسلِ انسانی کے ساتھ محبت و ہمدردی کا طریق اختیار کرتے ہیں تو ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ اب ہمیں خدا کے عقیدہ کی ضرورت نہیں۔کیونکہ یہ جذبات اپنی کمیت اور کیفیت کے لحاظ سے اکمل اور اتم صورت میں تبھی ظاہر ہو سکتے ہیں کہ جب علاوہ اور موجبات وحدت کے لوگ خدا کے عقیدہ پر بھی قائم ہوں اور اپنے آپ کو ایک واحد منبع خلق سے پیدا شدہ ہستیاں اور اور ایک واحد چشمہ حیات سے جاری شدہ نہریں تسلیم کریں۔میرے عزیز و! میں تمہیں یہ کس طرح یقین دلاؤں کہ خدا پر ایمان لانا (بشرطیکہ وہ حقیقی اور زندہ ایمان ہو ) انسان کے دل میں بنی نوع آدم کی محبت اور خیر خواہی اور اُن کے ساتھ جذبہ اخوت کا ایک ایسا وسیع سمندر موجزن کر دیتا ہے کہ جس کی کسی دوسری جگہ نظیر ملنی ناممکن ہے۔اور ان جذبات کے پیدا ہونے کے لئے باقی جتنے بھی موجبات 169