ہمارا خدا — Page 164
طرح افراد کے لئے بھی یہ ضروری ہے کہ وہ ایک دوسرے کے متعلق محبت اور اخوت اور ہمدردی اور تعاون کی روح پیدا کریں کیونکہ بغیر اس رُوح کے جو افراد اور اقوام ہر دو کے واسطے ایک سی ضروری ہے، دنیا میں امن کا قیام اور نسل انسانی کی خاطر خواہ ترقی و بہبودی محال ہے۔پس ہر اک بہی خواہ نسل آدم کا یہ فرض ہے کہ وہ تمام ایسے ذرائع اختیار کرنے کے درپے رہے جن سے کہ باہم وحدت و اخوت کی روح پیدا ہوتی اور ترقی کرتی رہے اور بغض اور حسد اور بے جا رقابت اور تعصب کے خیالات دلوں میں جاگزیں نہ ہونے پائیں۔اور جیسا کہ میں نے اوپر بیان کیا ہے ان ذرائع میں خدا کا یدہ سب سے بڑا اور سب سے زیادہ قطعی الاثر ذریعہ ہے۔واقعی یہ عقیدہ کہ ہم سب لوگ باوجود اپنے کثیر التعداد اور گونا گوں اختلاف کے ایک واحد قادر و متصرف مدرک بالا رادہ خدا کی مخلوق ومملوک ہیں اور ہم سب کا ملجاء و ماوی وہی یکتا ہستی ہے جس کے قبضہ تصرف سے دُنیا کی کوئی چیز باہر نہیں۔جس مضبوطی اور جس پختگی اور جس وضاحت کے ساتھ ہمارے دلوں میں باہم محبت و وحدت واخوت کے جذبات پیدا کر دیتا ہے وہ اپنی نظیر نہیں رکھتا۔بیشک ایک ملک کا باشندہ ہونا یا ایک قوم سے تعلق رکھنا یا ایک نظام حکومت کے ماتحت ہونا وغیر ذالک یہ سب ایسی باتیں ہیں جو کم و بیش وحدت و اخوت کا موجب ہوتی ہیں لیکن سب سے بڑھ کر یہ ایمان ہے کہ ہم ایک واحد خالق کی پیدا کردہ ہستیاں اور ایک واحد منبع فیوض سے جاری شدہ نہریں ہیں۔اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ ہمارا یہ مالک و آقا ایک فوت شدہ باپ کی طرح نہیں جس کے بعد نالائق بیٹے بعض اوقات آپس میں لڑنا جھگڑنا شروع کر دیتے ہیں بلکہ وہ اب بھی ہمارے سروں پر زندہ سلامت موجود ہے اور ہمیشہ رہے گا۔یہ ایمان تمام بنی نوع آدم کو فوراً بھائی بھائی بنا کر ایک صف میں کھڑا کر دیتا ہے اور اس یقین کے پیدا ہوتے ہی دل کی تمام کدورتیں اور کینے اور باہم بغض وعداوت کے خیالات کا فور ہونے 164