ہمارا خدا

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 149 of 255

ہمارا خدا — Page 149

شخص کے مشاہدہ اور تجربہ کو جو ہماری طرح ہی دل و دماغ رکھتا ہے اور جس کی راست گفتاری بھی شک وشبہ سے بالا ہے ہم قبول نہ کریں۔اخبارات میں ہم دُنیا بھر کی خبر میں پڑھتے ہیں اور اُن کو صحیح مانتے ہیں۔خواص الاشیاء کے متعلق جو جدید تحقیقا تیں ہورہی ہیں اور جن سے دُنیا کے علوم میں گویا ایک نئے عالم کا دروازہ کھل رہا ہے انہیں ساری دُنیا تسلیم کرتی ہے حالانکہ وہ لوگ جنہوں نے ان خواص کو اپنے ذاتی تجربہ کے ذریعہ براہ راست محسوس کیا ہے بہت ہی تھوڑے ہیں۔پھر تمام دنیا کی فوجداری اور دیوانی عدالتوں کے فیصلہ جات زیادہ تر زبانی یا تحریری شہادتوں کے ذریعہ ہی سرانجام پاتے ہیں اور کوئی اعتراض نہیں کرتا۔تاریخ کا علم بہت بڑی حد تک لوگوں کی زبانی یا تحریری شہادت پر مبنی ہے اور اسے سب تسلیم کرتے ہیں۔جغرافیہ کے علم کو لوتو ہندوستان کا بچہ بچہ یہ یقین رکھتا ہے کہ لنڈن ایک شہر ہے جو انگلستان کا دارالسلطنت ہے حالانکہ ہندوستان کی آبادی کے ایک فیصدی حصہ نے بھی لنڈن کو نہیں دیکھا ہو گا مگر دوسروں کی شہادت کی وجہ سے سب مانتے ہیں۔اس کے علاوہ ہم عملاً اپنی روزمرہ کی زندگی میں دیکھتے ہیں کہ بہت سی باتوں کو ہم صرف اس لئے مانتے ہیں کہ دوسرے لوگ اُن کے متعلق شہادت دیتے ہیں حالانکہ ہمیں خود اُن کے متعلق کوئی ذاتی علم حاصل نہیں ہوتا۔الغرض شہادت علم کے حصول کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے جس سے کوئی عقلمند انکار نہیں کر سکتا کیونکہ اگر اس سے انکار کیا جائے تو بہت سے علوم دنیا کے بیشتر حصہ کے واسطے باطل اور بے کار چلے جاتے ہیں کیونکہ شہادت کے اصول سے انکار کرنے کے یہ معنے ہیں کہ لوگ صرف ان باتوں کو مانیں جواُن کے ذاتی تجربہ اور مشاہدہ میں آچکی ہیں اور باقی سب کا انکار کر دیں۔بلکہ اگر غور سے دیکھیں تو شہادت کے اصل کا انکار کر کے ہم کسی علم کے بھی قائل نہیں رہ سکتے کیونکہ اگر زید و بکر کا مشاہدہ اور تجربہ باوجود اس کے کہ وہ راستباز اور صحیح الدماغ ہیں اور اُن کے واسطے غلط بیانی کا کوئی محرک بھی نہیں ہے، 149