ہمارا خدا — Page 142
داستان شروع ہوتی ہے جس نے آج مذہبی دنیا میں گویا ایک زلزلہ اور طوفان برپا کر رکھا ہے۔حضرت مرزا صاحب علیہ السلام نے 1884ء میں مجددیت کا دعویٰ دُنیا کے سامنے پیش کیا۔مگر چونکہ اس دعوی میں کوئی ایسی بات نہ تھی جو مسلمانوں کو خاص طور پر چونکانے کا موجب ہوتی کیونکہ اسلام میں بہت سے مجد دظاہر ہو چکے ہیں۔اس لئے عموماً اسلامی دنیا نے اس دعویٰ کو خاموش قبولیت یا کم از کم عدم انکار کی نظر سے دیکھا اور حضرت مرزا صاحب علیہ السلام بدستور اپنے منصب خداداد کے مطابق اسلام کی تائید میں مصروف رہے اور سمجھدار مسلمان آپ کی ان خدمات کو شکر و امتنان کی نظر سے دیکھتے رہے کیونکہ وہ آپ کی خدمات کی وجہ سے محسوس کرتے تھے کہ اگر آج مسلمانوں کے اندر کوئی شخص اس بات کی اہلیت رکھتا ہے کہ مخالفین کے مقابلہ میں عزت اور کامیابی کے ساتھ عہدہ برآ ہو سکے تو وہ صرف آپ ہی ہیں۔مگر حضرت مرزا صاحب علیہ السلام کی ان خدمات نے مخالفین اسلام یعنی ہندوؤں اور عیسائیوں کے اندر عداوت و دشمنی کی ایک خطر ناک آگ مشتعل کر دی اور انہوں نے ہر ممکن طریق سے آپ کو نقصان پہنچانے اور نیچا دکھانے کی ٹھان لی۔لیکن ابھی اس حالت پر زیادہ عرصہ نہ گذرا تھا کہ حضرت مرزا صاحب علیہ السلام نے خدا تعالیٰ سے حکم پا کر اپنا یہ دعویٰ شائع کیا کہ آخری زمانہ کے متعلق مسیح کے نزول اور مہدی کے ظہور کی جو پیشگوئی تھی اس کا مصداق میں ہوں اور حضرت مسیح ناصری علیہ السلام جن کی دوبارہ آمد کا انتظار کیا جارہا ہے فوت ہو چکے ہیں۔بلکہ آپ نے یہ بھی دعوئی فرمایا کہ دُنیا کے مختلف مذاہب میں جو آخری زمانہ کے متعلق پیشگوئیاں پائی جاتی ہیں کہ اس زمانہ میں ایک عظیم الشان مصلح کا ظہور ہوگا جو باطل کا مقابلہ کر کے اُسے مغلوب کر دیگا اور اس کے ہاتھ پر حق و صداقت کی فتح ہوگی وہ سب میری ذات میں پوری ہوئی ہیں اور میں ہی وہ موعود ہوں جس کا جملہ ادیان 142