ہمارا خدا

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 133 of 255

ہمارا خدا — Page 133

خدا ہے۔دیکھو وہ ابھی ہمارے لئے رستہ بنائے دیتا ہے۔اللہ اللہ ! یہ وہی حضرت موسیٰ ہیں جو آج سے چند برس پہلے مصر کی پولیس سے ڈر کر وطن سے بھاگ نکلے تھے۔اب فرعون کا لاؤلشکر سامنے ہے اور حضرت موسیٰ“ کے ماتھے پر بل تک نہیں آتا! پھر نتیجہ کیا ہوتا ہے؟ حضرت موسی کے لئے سمندر پھٹ کر راستہ بنا دیتا ہے مگر فرعون مع اپنے لشکر اور ساز وسامان کے سمندر کی مہیب موجوں کا شکار ہو جاتا ہے۔پھر اسی پر بس نہیں بلکہ آج حضرت ابراہیم کی طرح حضرت موسیٰ" کے نام لیوا بھی شمار سے باہر ہیں اور فرعون کو کوئی جانتا تک نہیں البتہ اس کا مردہ جسم لوگوں کی عبر نگاہ بنا ہو ا۔ا ہے۔آؤاب حضرت مسیح ناصری کا نظارہ کریں۔بنو اسرائیل کی ایک غریب بے بیاہی لڑکی کے گھر میں لڑکا پیدا ہوتا ہے۔بد باطن یہود چہ میگوئیاں کرتے ہیں کہ لڑکی تو بھی بیا ہی نہیں گئی یہ لڑکا کہاں سے آگیا؟ اور اس بات کو بُھول جاتے ہیں کہ پیدائش ایک سابقہ پیشگوئی کے مطابق تھی۔لے اور اس بات کو بھی بھول جاتے ہیں کہ میچ کی کم از کم ماں تو موجود ہے۔حضرت آدم کا تو ان کے خیال کے مطابق نہ باپ تھا نہ ماں۔خیر یہ بے باپ کا لڑکا بڑا ہوتا ہے اور پھر روح القدس کی تائید پا کر وہی پرانی آواز بلند کرتا ہے جو حضرت کرشن نے ہندوستان میں اور حضرت ابراہیم نے شام میں اور حضرت موسیٰ" نے مصر میں بلند کی تھی مگر یہود جو پہلے سے ہی اُسے سج آنکھوں سے دیکھ رہے تھے غیظ و غضب سے بھر جاتے ہیں اور آخر نوبت یہاں تک پہنچتی ہے کہ یہود کی سازش سے میچ کو صلیب پر لٹکا دیا جاتا ہے اور یہود خوش ہوتے ہیں کہ ہم نے میدان مارلیا۔لیکن مسیح کے پیچھے کسی او کا ہاتھ تھا۔وہ اپنے نام لیوا کی مدد کو آتا ہے اور اُسے اس ذلت کی موت کے مونہہ سے نکال لیتا ہے اور اپنے محبت کے کلام سے اُسے یوں تسلی دیتا ہے کہ ” آج میری ایک مصلحت سے یہود نے تجھ پر ایک عارضی تسلط پایا ہے۔لیکن یسعیاہ باب 7 آیت 14 133