ہمارا خدا — Page 126
اور اگر کسی کو یہ خیال گذرے کہ اس مضمون کے شروع میں تو بڑے زور وشور کے ساتھ ہمیں یہ بتایا گیا تھا کہ آجکل دنیا میں اکثر لوگ خدا پر ایمان نہیں لاتے اور ہر قوم دہریت کا شکار ہو رہی ہے مگر یہاں یہ کہا جاتا ہے کہ تمام اقوامِ عالم خدا پر ایمان لاتی ہیں اور یہ کہ یہ قبولیت عامہ دہریت کو بھی نصیب نہیں ہوتی۔گویا ان دونوں بیانوں میں تضاد ہے تو یہ شبہ قلت تدبر کا نتیجہ ہوگا۔کیونکہ جہاں یہ کہا گیا ہے کہ آجکل سب قو میں دہریت کا شکار ہورہی ہیں وہاں حقیقی ایمان کو مد نظر رکھا گیا ہے لیکن موجودہ بحث میں صرف عقیدہ کے ایمان یعنی غیر حقیقی ایمان کا ذکر ہے۔پس یہ دونوں بیان متضاد نہیں کہلا سکتے کیونکہ دونوں اپنی اپنی جگہ بچے ہیں۔یہ بھی سچ ہے کہ اس زمانہ میں دُنیا کے اکثر لوگ خدا پر ایمان نہیں لاتے کیونکہ جس قسم کا ایمان اُن کے اندر پایا جاتا ہے وہ کوئی زندہ حقیقت نہیں ہے جو عملاً اُن کی زندگیوں پر اثر پیدا کر سکے اور یہ بھی سچ ہے کہ دُنیا کی ساری قو میں خدا پر ایمان لاتی رہی ہیں کیونکہ گوان کا ایمان کیسا ہی کمزور اور مُردہ بلکہ مشرکانہ ہو اس میں شک نہیں کہ وہ بحیثیت قوم عقیدہ ہمیشہ کسی نہ کسی صورت میں اس ایمان پر قائم رہی ہیں کہ اس دُنیا کے اوپر کوئی خدا ہے جس کے قبضہ تصرف میں ہماری جانیں ہیں۔اور ظاہر ہے کہ اس جگہ صرف عقیدہ کے ایمان کا ذکر ہے باطنی حقیقت کی بحث نہیں۔پس دونوں بیان اپنی اپنی جگہ سچے ہوئے اور تضاد کوئی نہ رہا۔خلاصہ کلام یہ کہ وہ عظیم الشان اور عالمگیر مقبولیت جو ایمان باللہ کے عقیدہ کو ہر زمانہ میں حاصل رہی ہے اس بات کی دلیل ہے کہ یہ عقیدہ حق و راستی پر مبنی ہے اور اس کے مقابل کا عقیدہ جو دہریت کے نام سے موسوم ہوتا ہے غلط اور باطل ہے۔وھو المراد یقین کے تین درجے اگلی دلیل جو میں ہستی باری تعالیٰ کے متعلق بیان کرنا چاہتا ہوں وہ بھی گو عقلی 126