ہمارا خدا

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 127 of 255

ہمارا خدا — Page 127

ہے اور خدا کے متعلق ہونا چاہیے والے مرتبہ سے تعلق رکھتی ہے لیکن اہل بصیرت اس سے خدا تعالیٰ کی ذات کی طرف ایک یقینی اور قطعی اشارہ پاسکتے ہیں۔دراصل یہ نہ سمجھنا چاہئے کہ عقلی دلائل محض شکی دلائل ہیں اور ان سے کوئی مرتبہ یقین کا ذات باری تعالیٰ کے متعلق پیدا نہیں ہو سکتا۔جو شخص یہ سمجھا ہے وہ بالکل غلط سمجھا ہے کیونکہ خدا کے متعلق ہونا چاہیے“ کا مرتبہ بھی ایک یقین کا مرتبہ ہے جس طرح کہ ” ہے“ کا مرتبہ ایک یقین کا مرتبہ ہے۔فرق صرف یہ ہے کہ ”ہونا چاہئے“ کے مرتبہ میں وہ یقین کامل حاصل نہیں ہوسکتا جو ہے“ کے مرتبہ میں حاصل ہوتا ہے اور وہ اطمینان اور تسکین کی صورت نہیں ہوتی جو ہے“ کے مقام پر پہنچ کر حاصل ہوتی ہے ورنہ وہ بھی ایک یقین کا وو وو مقام ہے جس میں عقلمند آدمی کے واسطے کسی قسم کے انکار کی گنجائش نہیں ہوتی۔دراصل یقین کے مختلف مراتب ہیں۔ایک یقین وہ ہے جو کسی چیز کے متعلق عقلی دلائل کے نتیجہ میں پیدا ہوتا ہے اور آثار کو دیکھ کر کسی چیز کے وجود پر دلیل پکڑی جاتی ہے۔مثلاً ہم دُور سے ایک جنگل میں آگ کا دھواں اٹھتا دیکھتے ہیں اور اس سے یہ استدلال کرتے ہیں کہ یہاں ضرور کوئی آگ ہوگی جس سے یہ دھواں اُٹھتا ہے کیونکہ اس قسم کا دھواں بغیر آگ کے نہیں ہوسکتا اور ہمارا یہ استدلال ہم میں اس آگ کے وجود کے متعلق ایک عقلی یقین پیدا کر دیتا ہے۔اس قسم کا یقین قرآن شریف کی اصطلاح میں علم الیقین“ کہلاتا ہے۔یعنی وہ یقین جو کسی علمی یا عقلی استدلال کے نتیجہ میں پیدا ہوا ہو اور جس میں براہ راست مشاہدہ کا دخل نہ ہو اور ظاہر ہے کہ ” ہونا چاہیئے“ کا مرتبہ بھی اسی قسم کے یقین کا مرتبہ ہے کیونکہ اس میں بھی آثار سے (نہ کہ براہ راست رویت سے ) ذات باری تعالیٰ کے وجود پر دلیل پکڑی جاتی ہے۔مگر جب ہم آگ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیتے یا اُس کی مخصوص صفت سوزش کا عملاً تجربہ کر لیتے ہیں تو پھر یہ ہونا چاہیئے والا یقین ہے والے پختہ اور قطعی یقین میں بدل جاتا ہے۔دوسرے وو 127