ہمارا خدا — Page 122
کولیں، یہ عقیدہ کسی نہ کسی صورت میں خواہ وہ مخفی ہو یا ظاہر ضرور ہمارے سامنے آتا ہے کہ یہ دنیا کسی بالا ہستی کے قبضہ تصرف میں ہے۔پس باوجود اس قدر عظیم الشان اور كثير التعداد اختلافات کے تمام اقوامِ عالم کا ہر زمانہ میں اس بات پر متفق نظر آنا کہ اس دُنیا کا کوئی خدا ہے قطع نظر اس کے کہ اس کی کیا صفات ہیں یا وہ ایک ہے یا زیادہ ہیں، خدا تعالیٰ کے وجود پر ایک ایسی دلیل ہے جس سے کوئی عقلمند انکار نہیں کر سکتا۔میں یہ نہیں کہتا کہ یہ قو میں اس بات کا دعویٰ رکھتی ہیں کہ ہم نے خدا کو دیکھایا پہچانا ہے اور اس کی صفات کا مشاہدہ کیا ہے اور گویا اس معاملہ میں اپنی عینی شہادت کو پیش کرتی ہیں بلکہ میں صرف یہ کہتا ہوں کہ تمام اقوامِ عالم باوجود اپنے بیشمار مذہبی اختلافات کے ہر زمانہ میں خدا تعالیٰ کی ذات پر کسی نہ کسی صورت میں ایمان لانے کا دعوئی رکھتی رہی ہیں اور یہ مجرد دعوی ہی اپنی عالمگیر مقبولیت کی وجہ سے اس بات کی دلیل ہے کہ واقعی کوئی خدا ہے۔خوب سوچ لوکسی عقیدہ کو اس قدر مقبولیت حاصل ہو جانا کہ وہ تمام دُنیا کا عقیدہ بن جائے اور تمام قومیں اس کو اپنے دین و مذہب کا مرکزی نقطہ قرار دیں اور جب سے کہ دُنیا کی تاریخ محفوظ ہے آج کے زمانہ تک کوئی ایک مثال بھی ایسی نظر نہ آئے کہ کوئی قوم بحیثیت قوم ہونے کے اس عقیدہ سے قطعی طور پر منکر ہوئی ہو اس عقیدہ کے صحیح ہونے پر ایک ایسی دلیل ہے جس سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔بیشک دُنیا میں غلط عقائد بھی قائم ہو جاتے ہیں اور بعض اوقات ان غلط عقائد کا حلقہ کرمانی اور مکانی طور پر کسی قدر وسعت بھی حاصل کر لیتا ہے لیکن ایسا کبھی نہیں نظر آئے گا کہ کوئی غلط عقیدہ تمام دنیا کے گوشہ گوشہ میں قائم ہو گیا ہوتی کہ کوئی ایک قوم بھی اس سے مستثنی نظر نہ آتی ہو اور پھر وہ کسی ایک زمانہ تک محدود نہ رہا ہو بلکہ جب سے دُنیا بنی ہوا سے یہی عالمگیر مقبولیت حاصل چلی آئی ہو۔اگر ایسا ہو تو دُنیا سے امان اُٹھ جائے اور حق و باطل میں امتیاز مشکل 122