ہمارا خدا

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 12 of 255

ہمارا خدا — Page 12

وَمَا تَوْفِيقِي إِلَّا بِاللَّهِ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ أُنِيْبُ میرے اس بیان سے یہ نہ سمجھا جائے کہ میں نے اس مضمون کے واسطے کوئی خاص تیاری کی ہے یا یہ کہ میں اس سوال پر علمی لحاظ سے کوئی خاص روشنی ڈالنا چاہتا ہوں۔میرا منشا صرف یہ ہے کہ اس مسئلہ کے متعلق جو میرے موجودہ معلومات ہیں اُن میں سے بعض کو جو عام فہم ہیں میں اپنے نو جوان عزیزوں اور دوستوں کے لئے مختصر اور سادہ طریق پر تحریر کر دوں تا اگر خدا چاہے تو میرا یہ مضمون کسی بھٹکتی ہوئی رُوح کی ہدایت اور کسی لڑکھڑاتے ہوئے قدم کی استواری اور کسی بیقرار اور پریشان دل کی تسکین کا موجب ہو اور ہمارے عزیز اپنے اُس مہربان اور سب محبت کرنے والوں سے بڑھ کر محبت کرنے والے آقا و مالک کو پہنچا نہیں جس کا پہچانا اور جس تک پہنچنا ہماری زندگی کا مقصد ہے۔عمر قبل اس کے کہ میں اس مضمون کو شروع کروں میں خدا سے دعا کرنا چاہتا ہوں کہ اے میرے مولیٰ ! تو میری سب کمزوریوں پر اطلاع رکھتا ہے اور میری علمی اور عملی حالت بھی تجھ سے پوشیدہ نہیں۔تو مجھے اپنے فضل سے یہ طاقت اور توفیق عطا کر کہ میں تیری رضا کے ماتحت اس مضمون کو تکمیل تک پہنچا سکوں اور تُو میرے الفاظ میں اثر پیدا کر اور میرے قلم کو صرف حق و راستی کے طریق پر چلا تا تیرے بندے میرے اس بیان سے فائدہ اٹھا ئیں اور تجھے پہچان کر اپنی زندگی کا اصل مقصد حاصل کریں اور اے میرے ہادی وراہنما! گوئیں میں اپنی نیت کو نیک پاتا ہوں لیکن خود میرے متعلق بھی تجھے وہ علم حاصل ہے جو مجھے حاصل نہیں۔پس اگر تیرے علم میں میری نیت میں کوئی مخفی فساد ہے تو مجھ ناچیز پر رحم فرما اور میری نیت کی اصلاح کر دے تا میری شامت اعمال کی وجہ سے میرا یہ بیان اُن برکات سے محروم نہ ہو جائے جو تیری طرف سے صداقت کی تائید میں نازل ہوا کرتی ہیں۔اے میرے آقا و مالک ! تو ایسا ہی کر۔آمین یا ارحم الراحمین۔12