ہمارا خدا

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 115 of 255

ہمارا خدا — Page 115

اگر اس جگہ کسی کو یہ اعتراض پیدا ہو کہ کیا یہ ممکن نہیں کہ یہ شعور جسے فطری شعور کہا جاتا ہے گرد و پیش کے حالات اور خاندانی اور ملکی روایات کا نتیجہ ہو؟ یعنی اگر لوگ نیکی کو اچھا سمجھتے اور بدی سے نفرت کرتے ہیں تو اس کی وجہ کوئی فطری تقاضا نہ ہو بلکہ محض یہ وجہ ہو کہ لوگوں نے تجربہ سے اچھے کاموں کو اچھا سمجھ لیا ہو اور بُرے کاموں کو بُرا۔اور اس طرح آہستہ آہستہ ایک لمبے عرصہ کے بعد یہ خیال نسلِ انسانی میں قائم وراسخ ہو کر ایک فطری شعور کے طور پر نظر آنے لگ گیا ہو؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ گو یہ اعتراض بظاہر قابل غور نظر آتا ہے لیکن ذرا تدبر اور فکر سے کام لیا جاوے تو حقیقت حال ہرگز مخفی نہیں رہ سکتی۔ظاہر ہے کہ نیکی بدی کا احساس دو ہی طرح پیدا ہوسکتا ہے۔یعنی یا تو اس کا باعث ایک لمبے زمانہ کا تجربہ اور گردو پیش کے حالات ہیں جیسا کہ معترض کا خیال ہے اور یا وہ کسی بالا ہستی کی فطری ودیعت ہے جیسا کہ اسلام ہمیں سکھاتا ہے۔ان دو کے سوا کوئی تیسری صورت ذہن میں نہیں آتی اور اب ہم نے دیکھنا یہ ہے کہ ان دونوں صورتوں میں سے کونسی صورت صحیح اور حقیقت پر مبنی ہے۔سوسب سے پہلی بات جو نیکی بدی کے شعور میں ہمیں نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ اس شعور کے اندر خواہ وہ دُنیا کی کسی قوم اور کسی زمانہ کے ساتھ تعلق رکھتا ہو ایک رنگ کی ایک صورتی نظر آتی ہے جسے انگریزی میں یونی فارمیٹی (Uniformity) کہتے ہیں۔یعنی یہ شعور دنیا کی ہر قوم میں اور دُنیا کے ہر زمانہ میں اپنی اصل کے لحاظ سے ایک ہی صورت اور ایک ہی رنگ ڈھنگ کا نظر آتا ہے جو اس بات کا بین ثبوت ہے کہ وہ تجربہ اور گردو پیش کے حالات کے نتیجہ میں پیدا نہیں ہوا بلکہ کسی بیرونی طاقت کی طرف سے جو سب پر بالا اور فائق ہے فطرت انسانی میں ودیعت کیا گیا ہے۔خوب سوچ لو کہ جو بات تجر بہ اور گردو پیش کے حالات سے پیدا ہوتی ہے وہ ضرور مختلف قوموں اور مختلف زمانوں میں مختلف ہونی چاہئے خصوصاً ابتدائی زمانہ میں جبکہ ہر قوم عموماً ہر دوسری قوم سے بے خبر ہوتی تھی اور 115