ہمارا خدا

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 108 of 255

ہمارا خدا — Page 108

ہے کہ اگر خدا غیر مخلوق ہو سکتا ہے تو کیوں نہ اس دُنیا کو ہی غیر مخلوق سمجھ لیا جائے اور حق یہی ہے کہ ہر اک چیز مخلوق ہے۔مگر خدا جس کے اوپر کوئی خالق نہیں اور ہر اک چیز م ہے مگر خدا جس کے اوپر کوئی حاکم نہیں اور ہر اک چیز مملوک ہے۔مگر خدا جس کے او پر کوئی مالک نہیں خدا کی ذات وہ مرکزی نقطہ ہے جس پر تمام خطوط جمع ہوتے ہیں اور جس کے آگے کوئی رستہ نہیں۔مبارک وہ جو اس نقطہ کو پہچانتا ہے اور ہلاکت کے گڑھے میں گرنے سے بچ جاتا ہے۔حدیث شریف میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول آتا ہے کہ تم ہر چیز کے متعلق یہ پوچھ سکتے ہو کہ اسے کس نے پیدا کیا ہے لیکن جب خدا پر پہنچ تو پھر اس سوال کو بند کر دو۔کوئی نادان خیال کرتا ہوگا کہ آپ نے اپنے متبعین کے لئے آزادانہ تحقیق کا راستہ بند کرنا چاہا ہے اور گو یا شکوک سے بچانے کے لئے ان کو اس علمی سوال میں پڑنے سے ہی روک دیا ہے۔حالانکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی یہی منشا ہے جو او پر بیان کیا گیا ہے یعنی یہ کہ ہر چیز کے متعلق مخلوق ہونے کا سوال پیدا ہو سکتا ہے مگر خُدا کے متعلق یہ سوال پیدا نہیں ہوسکتا۔اور اگر کوئی شخص یہ سوال اُٹھاتا ہے تو یہ اس کی اپنی جہالت کا ثبوت ہے۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے علم کا دروازہ بند نہیں کیا بلکہ جہالت کا دروازہ بند کیا ہے۔تحقیق کے رستہ میں روک نہیں ڈالی بلکہ تو ہم پرستی میں پڑنے سے منع فرمایا ہے۔اللهم صلّ عليه وسلّم وياايها الذين امنوا صلّوا عليه وسلّموا تسليماً۔خلاصہ کلام یہ کہ یہ وسیع عالم معہ اپنے نہایت درجہ حکیمانہ نظام کے جو اس کی کثیر التعداد مختلف الجنس ، تغیر پذیر، غیر قائم بالذات محدود اشیاء میں انفرادی اور مجموعی طور پر کام کرتا نظر آتا ہے زبانِ حال سے اس بات کی شہادت پیش کر رہا ہے کہ وہ خود بخود اپنے آپ سے نہیں ہے بلکہ ایک بالا ہستی کی قدرت خلق سے عالم وجود میں آیا 108