ہمارا خدا — Page 106
اوپر ہونا چاہئے جو ان کثیر التعداد افواج کو ایک واحد نظام کے ماتحت جمع رکھ سکے۔لیکن اس کے مقابلہ میں خدا کا وجود مذہباً بھی اور عقلاً بھی واحد بلکہ احد مانا جاتا ہے جس کے او پر کسی منظم یعنی ایک انتظام میں جمع رکھنے والی ہستی کی ضرورت نہیں۔دوسرے دنیا میں اختلاف ہے یعنی دنیا کسی ایک قسم کی چیزوں کے مجموعہ کا نام نہیں بلکہ بیشمار مختلف الصورت اور مختلف الجنس چیزوں پر مشتمل ہے جن میں سے ہر ایک الگ الگ خواص رکھتی اور الگ الگ دائرہ میں چکر لگاتی اور الگ الگ قانون کے ماتحت جاری ہے۔پس یہ اختلاف بھی ایک خالق و مالک قدیر و متصرف ہستی کی ضرورت کو ثابت کر رہا ہے جو اِن لاتعداد مختلف چیزوں کو باوجود ان کے الگ الگ قانون کے انہیں ایک مجموعی قانون کی لڑی میں پرو سکے۔مگر خُدا کی ذات کے متعلق بوجہ ایک ہونے کے اختلاف کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوسکتا۔تیسرے دنیا کی ہر چیز کو زوال اور تغیر لاحق ہے۔یعنی دُنیا کی کوئی چیز ایسی نہیں جو ایک حالت پر قائم رہتی ہو بلکہ ہر چیز ہر وقت بدل رہی ہے اور ہر وقت ہر چیز اپنی محدود عمر کی گھڑیوں کو کم کرتی چلی جارہی ہے۔اور یہ حالت بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ دنیا خود بخود نہیں بلکہ کسی بالا ہستی کے قبضہ و تصرف کے ماتحت ہے ،لیکن خدا کا وجود غیر متغیر اور زمانہ کے اثر سے بالا ہے اور بالا ہونا چاہئے۔چوتھے دُنیا کی ہر چیز اپنی طاقتوں اور اپنے طبعی قوی اور اپنے دائرہ عمل میں محدود اور مقید ہے۔اور دُنیا کی کوئی چیز بھی ایسی نہیں جس کی کوئی ایک صفت بھی ایسے درجہ کمال تک پہنچی ہوئی ہو کہ حدود و قیود سے آزاد ہو جائے۔پس خواص وصفات کی یہ حد بندی بھی ایک حد مقرر کرنے والی ہستی پر دال ہے یعنی ایک ایسی ہستی کی طرف اشارہ کر رہی ہے جس نے ان بیشمار مختلف چیزوں کو ایک قانون کے ماتحت معتین حدود کے اندر محدود کر رکھا ہے اور جو خود ہر قید و بند سے آزاد ہے۔106