ہمارا خدا

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 75 of 255

ہمارا خدا — Page 75

اپنے دائرہ کے اندر کام کرتی ہوئی لوگوں کی عقول کو محو حیرت کر رہی ہیں۔لہذا یہ ایک نادانی کا فعل ہے کہ مسئلہ ارتقاء سے خدا تعالیٰ کے خلاف استدلال کیا جائے بلکہ حق یہ ہے کہ اس مسئلہ سے اُس کی پُر حکمت قدرتوں اور بے نظیر صنعت پر آگے سے بھی زیادہ روشنی پڑ گئی ہے۔باقی رہا دوسرا اعتراض یعنی یہ کہ دُنیا کی ہراک چیز اور ہر تغییر اور ہرسکون ایک خاص قانون کے ماتحت ہے اور ہم اب دن بدن اس مخفی قانونِ قدرت کی زیادہ سے زیادہ واقفیت حاصل کرتے جاتے ہیں اور اس بات پر زیادہ سے زیادہ روشنی پڑتی جاتی ہے کہ دُنیا میں جو کچھ ہورہا ہے وہ نیچر کے کسی معین قانون کے ماتحت ہو رہا ہے جس سے ثابت ہوا کہ جو کچھ ہے یہی قانون ہے خدا وغیرہ کوئی نہیں۔سو یہ اعتراض بھی ایک نہایت بودا اور کمزور اعتراض ہے۔ہم نے کبھی بھی یہ دعوی نہیں کیا کہ دُنیا کسی قانون یا سلسلہ اسباب کے ماتحت نہیں ہے اور بلا کسی درمیانی سبب کے اور بلا کسی قانون کے خدا کے بلا واسطہ تصرف سے چل رہی ہے۔ہم تو خود اس بات کے مقر بلکہ مدعی ہیں اور اسلام ہمیں یہی سکھاتا ہے کہ یہ تمام کارخانہ عالم ایک نہایت درجہ حکیمانہ قانون اور بار یک در بار یک سلسلۂ اسباب کے ماتحت کام کر رہا ہے بلکہ اس دلیل میں ہم نے اس قانون کو ہستی باری تعالیٰ کے ثبوت میں پیش کیا ہے۔پس یہ ثابت کرنا کہ دنیا کی ہر چیز ایک خاص معتین قانون کے ماتحت کام کر رہی ہے، ہمارے خلاف کوئی اثر نہیں رکھ سکتا۔سوال تو یہ ہے جس کا آج تک کوئی دہر یہ تسلی بخش جواب نہیں دے سکا کہ یہ کامل و مکمل قانون کہاں سے آیا ہے ؟ بعض لوگ اس کا یہ جواب دیا کرتے ہیں کہ یہ قانون مادہ کا طبعی خاصہ ہے اور نیز یہ کہ ایک قانون دوسرے قانون کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے اور اسی طرح یہ سلسلہ چلتا چلا آیا ہے اور اسی طرح چلتا چلا جائے گا۔مگر ہم کہتے ہیں کہ یہ طبعی خاصہ کہاں سے آیا؟ اور پھر یہ کہ بیشک بعض اوقات ایک قانون دوسرے 75