ہمارا خدا

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 72 of 255

ہمارا خدا — Page 72

کے گذشتہ زمانہ میں وہ ایک نہایت ہی ادنی قسم کی چیز تھا جس نے آہستہ آہستہ ارتقاء کر کے اپنی موجودہ شکل وصورت اختیار کی ہے۔اسی طرح دُنیا کی دوسری چیزوں کا حال ہے کہ وہ اپنی ابتدائی حالت میں بالکل ادنی اور سادہ تھیں مگر بعد میں قانون ارتقاء کے ماتحت آہستہ آہستہ ترقی کر گئیں۔اسی طرح اُن کا یہ دعویٰ ہے کہ دنیا کی اکثر چیزیں جو اس وقت مختلف جنسوں اور مختلف صورتوں اور مختلف خواص میں نظر آتی ہیں کسی زمانہ میں ان میں اتنا اختلاف نہ تھا بلکہ دنیا اپنی ابتدائی حالت میں صرف چند محدود سادہ چیزوں کی صورت میں تھی جن سے آہستہ آہستہ ارتقاء کر کے یہ عجائب خانہ عالم پیدا ہوتا گیا۔پس ان لوگوں کا کہنا ہے کہ موجودہ کا ئنات اور اس کے باریک اور مفصل اور حکیمانہ نظام کو کسی بیرونی صانع کی دلیل میں پیش نہیں کیا جاسکتا۔کیونکہ یہ سب کچھ قانونِ ارتقاء کے ماتحت طبعی طور پر ظہور پذیر ہوا ہے۔دوسری بات مغربی محققین یہ کہتے ہیں کہ یہ دنیا ہمیشہ سے ایک خاص معین قانون کے ماتحت کام کرتی چلی آئی ہے اور اب بھی دُنیا کی ہر اک چیز ایک خاص قانون کے ماتحت چل رہی ہے اور ہم علمی تحقیق کے ذریعہ سے ہر تغیر اور ہر حرکت اور ہر سکون کی وجہ دریافت کر سکتے ہیں۔اور ان کا یہ دعوی ہے کہ ہم روز بروز قانونِ نیچر اور خواص الاشیاء اور تعلقات مابین الاشیاء کی حقیقت تک پہنچتے جاتے ہیں اور سائنس کے مختلف شعبوں مثلاً فزکس اور کیمسٹری اور میکینکس اور انتھروپالوجی اور جی آلو جی اور بائونی اور زوالوجی اور اناٹومی اور فزی آلوجی اور اسٹرانومی اور سائی کالوجی وغیرہ وغیرہ میں اس قدر ترقی ہو چکی اور ہوتی جاتی ہے کہ بے شمار حقائق جو اس سے قبل ایک راز سر بستہ تھے بلکہ ہماری نظر سے بالکل ہی اوجھل تھے اب ایک منکشف شدہ حقیقت کے طور پر ہمارے سامنے آگئے ہیں اور سینکڑوں غلط خیالات جو لاعلمی اور جہالت اور سلف کی بے جا اتباع کے نتیجہ میں ہمارے اندر قائم تھے اب نئے علوم کی روشنی میں دُور ہوتے جاتے ہیں اور 72