ہمارا خدا

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 63 of 255

ہمارا خدا — Page 63

ٹکراتی نہیں۔اور پھر دودھ دینے والے چوپائیوں پر نگاہ ڈالو کیونکہ اُن میں بھی تمہارے لئے ایک سبق ہے۔دیکھو ہم کس طرح ان کے پیٹوں کے گوبر اور خون میں سے خالص دودھ تمہارے لئے الگ کر دیتے ہیں جو پینے والوں کے لئے لذت اور فائدہ کا موجب ہوتا ہے اور ہاں ذرا شہد کی مکھی کی طرف بھی دیکھنا۔تمہارے رب نے اُسے یہ حکم دے رکھا ہے کہ وہ پہاڑوں اور درختوں اور بیل دار پودوں کے اوپر اپنے مکان بنائے اور پھر پھلوں کا رس چوسے۔اور مطیع ہو کر تمہارے رب کے راستوں پر چلے تا کہ اُس کے پیٹ سے مختلف رنگوں کا شہر برآمد ہو جس میں لوگوں کے لئے شفا رکھی گئی ہے۔یقیناً غور کرنے والوں کے لئے اس میں بھی ایک نشان ہے۔پھر اے انسان! اپنے روزمرہ کے کھانے کی طرف نگاہ کر اور دیکھ کہ ہم کس طرح تیری خاطر ایک قاعدہ کے ماتحت پانی کو اوپر سے گراتے ہیں اور پھر ایک ضابطہ سے سطح زمین کو پھاڑتے ہیں اور پھر اُس میں سے غلہ اگاتے ہیں اور انگور اور سبزی اور زیتون اور کھجور میں اور میووں سے لدے ہوئے باغات اور پھل اور چارہ پیدا کرتے ہیں تاوہ تمہارے لئے اور تمہارے مویشیوں کے لئے سامانِ زندگی کا کام دے۔پاک ہے وہ ذات جس کے ہاتھ میں یہ ساری حکومت ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔اور وہ وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے موت وحیات کا سلسلہ جاری کیا تا وہ یہ دیکھے کہ تم میں سے کون اچھے اعمال بجالاتا ہے اور کون نہیں۔اور وہ غالب اور بخشنے والا خُدا ہے جس نے تمہارے سروں پر سات بلندیوں کو ترتیب کے ساتھ پیدا کیا۔اے انسان! کیا تو رحمن کی مخلوق میں کوئی نقص پاتا ہے؟ اپنی نظر کو چاروں طرف دوڑا اور پھر بتا کہ کیا تجھے کوئی فتور نظر آتا ہے؟ اور پھر دوبارہ سہ بارہ نظر کو چکر دے مگر یا درکھ کہ تیری نظر تیری طرف ہر دفعہ ذلیل وماندہ ہو کر لوٹے گی اور خدا کی خلق میں کوئی رخنہ نہ 63