ہمارا خدا

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 54 of 255

ہمارا خدا — Page 54

فطرت میں رکھدی کہ تیرا ایک خالق و مالک ہے جس سے تجھے غافل نہ رہنا چاہئے اور خدا نے ایسا اس لئے کیا کہ تا قیامت کے دن کسی کو یہ عذر نہ رہے کہ ہم تو لاعلمی کی حالت میں ہی گزر گئے ورنہ ہم ضرور خدا کی طرف توجہ کرتے۔غرض دوسرے فطری خواص کی طرح یہ بھی ایک فطری خاصہ ہے کہ ہم خود بخود نہیں ہیں بلکہ ایک بالا ہستی کی قدرت خلق سے عالم وجود میں آئے ہیں اور ہر شخص جس کی فطرت بیرونی اثرات کے نیچے دب کر مستور و مجوب نہیں ہوچکی اپنے اندر ضرور اس آواز کو گاہے گاہے اٹھتا ہو اپائے گا کہ میرا ایک پیدا کرنے والا ہے۔بلکہ جولوگ کسی وجہ سے اپنی فطرت کو ظلمت اور غفلتوں کے پردہ کے نیچے دفن کر چکے ہیں اُن پر بھی بعض حالات ایسے آجاتے ہیں کہ اُن کی سوئی ہوئی فطرت اچانک جاگ کر ان کے کان میں یہ آواز پیدا کر دیتی ہے۔چنانچہ بسا اوقات دیکھا گیا ہے کہ ایک دہر یہ بھی سخت اور اچانک مصیبت کے وقت میں رام رام یا اللہ اللہ پکار نے لگ جاتا ہے۔کوئی کہہ سکتا ہے کہ یہ عادت کا نتیجہ ہے لیکن میں کہتا ہوں کہ عادت تو حالات کے نتیجہ میں پیدا ہو ا کرتی ہے۔ایک شخص جو خدا کا منکر ہے اور سالہا سال سے انکار پر قائم چلا آتا ہے بلکہ خدا پر ایمان لانے والوں کے خلاف تقریر وتحریر کے ذریعہ زہر اُگلتا رہتا ہے اس کے متعلق نہیں کہا جاسکتا کہ اُس کا خدا کو پکارنا کسی عادت کا نتیجہ ہوسکتا ہے۔اُس کی عادت تو خدا کو بُرا بھلا کہنا اور گالیاں دینا ہے نہ کہ خدا کو مدد کے واسطے پکارنا۔پس ایک سالہا سال کے پختہ دہریہ کے منہ سے اچانک مصیبت کے وقت میں رام رام یا اللہ اللہ کالفظ نکلنا فطرت کی آواز کے سوا اور کسی چیز کا نتیجہ نہیں ہو سکتا۔دراصل مصیبت بھی ایک زلزلہ کا رنگ رکھتی ہے اور جس طرح زلزلہ بعض اوقات دبی ہوئی چیزوں کو باہر نکال پھینکتا ہے اسی طرح مصائب کا اچانک زلزلہ بھی بعض اوقات انسان کی دبی ہوئی فطرت کو اس کے مدفن سے باہر نکال کر ننگا کر دیتا ہے اور پھر وہی فطرت کی آواز جو ہزاروں پردوں کے نیچے دبی ہوئی ہونے کی وجہ سے 54