ہمارا خدا

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 49 of 255

ہمارا خدا — Page 49

والے سب برابر ہیں۔کسی کا کوئی نقصان نہیں ہے اور اگر خدا ہے تو خوب یا درکھو کہ انکار کرنے والے کی خیر نہیں۔اُس شخص کی اسی دلیل سے تسلی ہو گئی اور اُس نے آگے کوئی سوال نہ کیا۔واقعی اگر تو کوئی خدا نہیں ہے تو ہمیں مان لینے میں حرج کیا ہے؟ وہ کونسی چیز ہے جو خدا کو مان کر ہمیں چھوڑنی پڑتی ہے؟ موٹی باتوں میں زنا قتل۔چوری۔ڈاکہ۔جُھوٹ۔دھو کہ۔فریب وغیرہ ہی وہ باتیں ہیں جو ایمان باللہ تم سے چھڑاتا ہے اور یہ وہ باتیں ہیں جن کو خود تمہاری فطرت اور تمہاری عقل اور تمہاری حکومت بھی تم سے چھڑا رہی ہیں۔پس خدا پر ایمان لے آنے سے تمہارا نقصان کیا ہوا؟ یہ ایمان تمہاری کسی جائز خواہش کے جائز طور پر پورا ہونے میں قطعا کوئی روک نہیں ہوتا۔تم جائز طور پر کھاؤ، پیو۔سوؤ، جاگو۔اُٹھو بیٹھو۔کھیلو، کو دو۔پڑھو، لکھو۔دنیا کے کام کرو۔مال کماؤ۔دوستیاں لگاؤ۔بیویاں کر کے گھر بساؤ اولاد پیدا کرو۔تمہارا خدا پر ایمان لانا ہرگز تمہیں کسی کام سے نہیں روکتا۔بلکہ وہ صرف ایسے کاموں سے منع کرتا ہے جو تمہاری ذات کے لئے یا دوسروں کی ذات کے لئے ضرر رساں اور نقصان دہ ہیں اور ایسے کاموں سے باز رہنا خود تمہاری فطرت اور عقل اور قانون تمدن اور قانونِ سیاست کا بھی تقاضا ہے۔پس تمہیں خدا پر ایمان لانے میں نقصان کیا ہے؟ اور اگر کہو کہ ہم کیوں بلا ثبوت خدا کو مانیں تو میں کہتا ہوں کہ جس طرح تم دنیا میں بیشمار احتیاطی تجاویز کیا کرتے ہواُسی طرح کی ایک تجویز اسے بھی سمجھ لو۔بہر حال جب مان لینے میں فائدہ کا احتمال ہے اور نقصان کا احتمال نہیں اور انکار کر دینے میں فائدہ کا کوئی احتمال نہیں اور نقصان کا احتمال ہے تو پھر خود سوچ لو کہ کونسا طریق امن اور احتیاط کے زیادہ قریب ہے؟ ظاہر ہے کہ عموماً خدا کا انکار کرنے والے صرف اس لئے انکار کرتے ہیں کہ اُن کے نزدیک خدا کی ہستی کا کوئی ثبوت نہیں اور اس لئے انکار نہیں کرتے کہ خدا کے نہ ہونے کا ان کے پاس کوئی ثبوت ہے۔پس اس صورت میں احتیاطی پہلو کو مد نظر رکھ کر ہر عظمند کی عقل یہی فتویٰ 49