ہمارا خدا

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 48 of 255

ہمارا خدا — Page 48

کے احتیاطی انتظام بھی ضروری اور مفید ہوتے ہیں۔اب اس اصل کے ماتحت ہم ہستی باری تعالیٰ کے اصول پر نظر ڈالتے ہیں تو ہماری عقل یہی فیصلہ کرتی ہے کہ خدا تعالیٰ پر ایمان لے آنا انکار کر دینے سے بہر حال زیادہ امن اور زیادہ احتیاط کا طریق ہے۔اگر تو کوئی خدا نہیں اور یہ سارا کارخانہ عالم محض کسی اتفاق کا نتیجہ ہے تو ظاہر ہے کہ پر ایمان لانا ہمارے واسطے کسی طرح نقصان دہ نہیں ہوسکتا اور اگر کوئی خدا ہے تو ہمارا یہ ایمان لاریب سراسر مفید اور فائدہ مند ہوگا۔آخر اس سوال کے دو ہی جواب ہو سکتے ہیں تیسرا تو کوئی ممکن نہیں۔یا یہ کہ ساری دنیا خود بخود اپنے آپ سے ہے اور خود بخود ہی چل رہی ہے اور خدا ( نعوذ باللہ ) ایک خیال باطل ہے اور یا اس کا ایک خالق و مالک ہے جس نے اسے پیدا کیا ہے اور جو اسے چلا رہا ہے۔ان کے علاوہ تیسرا کوئی پہلو ہماری عقل تجویز نہیں کرتی۔اب اگر ہم خدا کا انکار کر دیتے ہیں تو یہ امکان کہ ممکن ہے کہ کوئی خدا ہو ہمارے لئے خطرناک احتمالات پیش کرتا ہے اور اگر ہم خدا پر ایمان لے آتے ہیں تو یہ امکان کہ ممکن ہے کوئی خدا نہ ہو ہمارے لئے قطعاً کوئی خطرناک احتمال پیش نہیں کرتا فَأَيُّ الْفَرِيْقَيْنِ اَحَقُّ بِالَا مِّنِ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُون " یعنی " سوچو کہ کون گروه امن کے زیادہ قریب ہے، انکار کرنے والا یا ایمان لانے والا ؟ پس ثابت ہوا کہ خدا کو مان لینا ہی احتیاط کا رستہ ہے کیونکہ اس میں کسی قسم کے نقصان کا احتمال نہیں ہے اور انکار کر دینے میں نقصان کا احتمال موجود ہے۔کہتے ہیں کسی نے حضرت علیؓ سے پوچھا تھا کہ خدا کی ہستی کا کیا ثبوت ہے؟ انہوں نے یہ دیکھکر کہ سائل ایک سیدھا سادہ آدمی ہے اسے یہی جواب دیا کہ دیکھو تمہارے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ اگر تو کوئی خدا نہیں ہے تو مان لینے والے اور نہ ماننے سورة الأنعام - آيت 82 48