ہمارا خدا — Page 26
باتوں تک محدود رکھیں جو ان کی زندگی کے نفع نقصان پر براہ راست اثر ڈالتی ہیں۔مثلاً اگر کوئی شخص ہمارے سامنے یہ سوال پیش کرے کہ میں نے ایک نیا ستارہ دریافت کیا ہے جو زمین سے اتنے کروڑ میل دور ہے اور جس کا ہمارے نظام شمسی سے کوئی خاص تعلق نہیں ہے اور نہ ہماری زمین پر اس کا کوئی خاص اثر پڑ رہا ہے، تو ظاہر ہے کہ سوائے ان لوگوں کے جو علم ہیئت میں مذاق رکھتے ہیں کوئی شخص اس ستارے کے حالات دریافت کرنے کی طرف متوجہ نہیں ہوگا۔لیکن اگر فرض کرو کہ کوئی شخص یہ دعوی کرتا ہے کہ میں نے ایک ایسی چیز دریافت کی ہے جس سے انسان کے بدن میں ایسی طاقت پیدا ہو جاتی ہے کہ اس کی طبعی عمر بہت لمبی ہو جاتی ہے اور بڑھاپے کے آثار بہت دیر کے بعد اس میں ظاہر ہوتے ہیں اور اوسط عمر جو اس چیز کے استعمال کے بعد انسان پاسکتا ہے ایک سو برس یا ڈیڑھ دوسو برس ہے۔اور اس دعوی کا شائع کرنے والا شخص بھی کوئی ٹھگ اور دھوکہ باز نہ ہو تو تمام دنیا بڑے شوق کے ساتھ اس طرف متوجہ ہو جائیگی۔کیونکہ یہ تحقیق ایسی ہے کہ اگر یہ درست ثابت ہو تو ہر انسان کی زندگی پر اس کا بھاری اثر پڑتا ہے۔اب ہم خدا کے متعلق دیکھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ یہ سوال تین مختلف جہات سے ہمارے سامنے آتا ہے۔سب سے اول ہماری فطرت اس سوال کو ہمارے سامنے پیش کرتی ہے۔دوسرے عقل پیش کرتی ہے۔تیسرے مذہب پیش کرتا ہے۔اور یہ تینوں ایسی صورت میں اس سوال کو ہمارے سامنے پیش کرتے ہیں کہ ہمیں تحقیق کے بغیر کوئی چارہ نہیں رہتا۔سب سے پہلے میں فطرت کو لیتا ہوں۔ہر شخص جو غور کرنے کا مادہ رکھتا ہے اور بعد کی خراب تربیت نے اس کی فطرت پر ظلمت اور جہالت کے پردے نہیں ڈال دیئے یہ محسوس کریگا کہ اس کی فطرت گاہے گاہے اس کے اندر یہ سوال پیدا کرتی رہتی ہے کہ ممکن ہے میرا کوئی خدا ہو جس نے مجھے پیدا کیا ہو اور جو اس تمام کارخانہ عالم کا چلانے 26