ہمارا خدا — Page 158
دھوکا لگا بھی ہے۔پس جب تک یہ ثابت نہ کیا جائے کہ یہ سب لوگ اس معاملہ میں واقعی دھو کہ خوردہ تھے اُس وقت تک محض دھوکا لگنے کا امکان بیان کر دینے سے معترض کا مطلب حل نہیں ہوسکتا۔وہ کون سی بات ہے جس میں دھو کے کا امکان نہیں ہے تو کیا اس وجہ سے دنیا کی ساری باتوں کو مشکوک قرار دیا جا سکتا ہے؟ اس طرح تو تو ہم پرستی کا ایسا دروازہ کھل جاتا ہے کہ کوئی بات بھی یقینی نہیں رہتی۔نپس جو شخص اس بات کا مدعی بنتا ہے کہ یہ شہادت دینے والے سب کے سب بلا استثناء اس معاملہ میں دھو کہ خوردہ ہیں اس کا یہ فرض ہے کہ اپنے اس دعویٰ کو دلائل کے ساتھ ثابت کر کے دکھائے والا صرف مُنہ کی پھونکوں سے لاکھوں راستباز صحیح الدماغ بزرگوں کی شہادت کو اڑا دینے کی کوشش کرنا ایک طفلانہ فعل ہے جس کی طرف کوئی عقلمند توجہ نہیں کرسکتا۔شہادت دینے والوں نے شہادت دی ہے اور واضح اور غیر مشکوک الفاظ میں دی ہے اور کوئی سنی سنائی شہادت نہیں دی بلکہ اپنا ذاتی اور عینی مشاہدہ پیش کیا ہے اور یہ شہادت دینے والے بزرگ سب کے سب راستباز اور صحیح الدماغ انسان ہیں اور پھر تعداد میں بھی وہ کم از کم لاکھوں ہیں اور ہر قوم اور ہر ملک اور ہر زمانہ میں پھیلے ہوئے ہیں۔ایسے حالات میں صرف اتنا کہہ دینے سے کہ دھوکہ لگنے کا امکان ہے یہ سمجھ لینا کہ بس یہ شہادت مشکوک ہو گئی ایک مجنونانہ فعل ہے جس پر کوئی دل و دماغ رکھنے والا انسان تسلی نہیں پاسکتا۔دوسرا جواب اس اعتراض کا جومیں دینا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ دھو کہ لگنے کے بھی موقعے اور حالات ہوتے ہیں اور ہر جگہ یہ نہیں کہا جاسکتا کہ دھو کہ لگا ہوگا۔ایک عاقل اور صحیح الدماغ شخص کے لئے دھوکا لگنے کا امکان صرف ان صورتوں میں ہو سکتا ہے کہ جہاں رائے اور خیال کا دخل ہوا اور دلائل کی بنا پر فیصلہ کرنا ہو۔مثلاً ایک علمی مسئلہ میں یہ امکان ہے کہ دو شخص دو مختلف خیال رکھتے ہوں اور دونوں صحیح الدماغ بھی ہوں کیونکہ جہاں رائے اور استدلال کا دخل ہے وہاں اس بات کا امکان ہے کہ کسی غلط فہمی کی وجہ 158