ہمارا خدا

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 157 of 255

ہمارا خدا — Page 157

جب تک انسان اس طریق کو اختیار نہ کرے وہ مقصد کبھی حاصل نہیں ہوسکتا۔بلکہ جتنا بڑا اور جتنا اعلیٰ مقصد ہوتا ہے اُتنا ہی اس کے واسطے زیادہ وقت صرف کرنا پڑتا ہے، زیادہ توجہ دینی پڑتی ہے، زیادہ محنت اٹھانی پڑتی ہے، زیادہ قربانی کرنی پڑتی ہے، زیادہ لمبے ضابطہ عمل میں سے گذرنا پڑتا ہے، تب جا کر وہ مقصد حاصل ہوتا ہے مگر تم ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بغیر کچھ کئے کے یہ اُمید رکھتے ہو کہ اگر کوئی خُدا ہے تو وہ ہمیں مل جائے۔خدا نکی قسم تم اس طرح خدا کو کبھی نہیں پاؤ گے۔ہاں اگر سچی تڑپ اور دلی آرزو اور پوری توجہ اور واجبی محنت کے ساتھ اس طریق کو اختیار کرو جو خدا تک پہنچنے کا طریق ہے اور پھر بھی خدا کو نہ پاؤ تو تب یہ کہنے کا حق رکھو گے کہ ہم نے خدا کو تلاش کیا مگر نہ پایا۔مگر یہ ناممکن ہے کہ تم ٹھیک راستہ پر چل کر خدا کو تلاش کرو اور پھر بھی خدا تمہیں نہ ملے۔لاکھوں بلکہ کروڑوں انسانوں نے جو تمہاری طرح کے انسان تھے اور تمہاری طرح کا دل و دماغ رکھتے تھے خدا کو تلاش کیا اور آخر اُس کو پالیا اور تاریخ عالم کے صفحات پر ان لوگوں کی شہادت ہاں ذاتی اور عینی شہادت واضح اور غیر مشکوک شہادت ثبت ہے۔اور تم میں سے کوئی شخص یہ جرات نہیں کر سکتا کہ اُن کی شہادت کے متعلق کسی قسم کے شک وشبہ کا احتمال پیدا کر سکے۔تم اُنکو دھوکہ باز نہیں کہہ سکتے۔تم انکو ناقص العقل اور مخبوط الحواس نہیں کہہ سکتے۔تم ان کے متعلق یہ شبہ نہیں کر سکتے کہ انہوں نے باہم ملکر ایک بات بنالی ہے۔پس کوئی وجہ نہیں کہ تم اُن کی شہادت کو محض اپنے دماغ کے فرضی تخیلات کی بناء پر رڈ کر دو۔اور اگر کوئی شخص یہ کہے کہ ہم ان لوگوں کو دھو کے باز یا ناقص العقل نہیں کہتے بلکہ دھو کہ خوردہ کہتے ہیں اور دھو کہ ہر انسان کو کم و بیش لگ سکتا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ بیشک اس بات کا امکان ہے کہ ایک فہمیدہ آدمی کو بھی کبھی دھو کہ لگ جائے لیکن کسی بات کے امکان ہونے کے یہ معنے نہیں ہیں کہ وہ بات عملاً وقوع میں بھی آگئی ہے یعنی صرف اتنی بات کہہ دینے سے کہ دھو کہ لگ جانے کا امکان ہے یہ ثابت نہیں ہو جاتا کہ واقعی 157