ہمارا خدا — Page 156
دیکھنے والے کہتے ہیں کہ وہ موجود ہیں؟ اور دوسرے ممالک کے واقعات کو جو اخباروں بھیتے ہیں باوجود خود نہ دیکھنے کے مانو؟ کیونکہ رائیٹر یا ہواس یا کوئی اور خبر رساں سی کہتی ہے کہ وہ وقوع پذیر ہوئے ہیں۔اور سائنس کی جدید تحقیقاتوں کو باوجود خود تجربہ نہ کرنے کے مانو کیونکہ تجربہ کرنے والے کہتے ہیں کہ وہ صحیح ہیں، مگر خدا کو باوجود اس کے کہ لاکھوں صحیح الدماغ راستباز اس کے موجود ہونے کی ذاتی شہادت پیش کرتے ہیں تسلیم نہ کرو! تِلْكَ إِذَا قِسْمَةٌ ضِيْرَى اور اگر کہو کہ یہ باتیں جو دوسرے لوگ پیش کرتے ہیں یہ گو ہم نے خود نہیں دیکھیں لیکن ان کے دیکھنے اور مشاہدہ کرنے کا رستہ تو ہمارے واسطے کھلا ہے۔تو میں کہتا ہوں کہ اے ہمارے بھولے بسرے دوستو !خد اتمہاری آنکھیں کھولے یہ رستہ تمہارے لئے خدا کے متعلق بھی گھلا ہے کیونکہ جو لوگ خدا تک پہنچنے کے مدعی ہیں وہ ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر تم اس طریق کو اختیار کرو جو ہم بتاتے ہیں اور جو خدا تک پہنچنے کا طریق ہے تو تم بھی ہماری طرح خدا کومل سکتے اور اس کے ساتھ تعلق پیدا کر سکتے ہو۔اور یہ اُن کا خالی دعوئی ہی نہیں ہے بلکہ بے شمار لوگوں نے ان کی پیروی اختیار کر کے واقعی خدا کا عرفان حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے چاہو تو آزما دیکھو۔مگر افسوس کہ دُنیا کے مقاصد کے متعلق تو لوگ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ اُن میں سے ہراک کے حصول کا ایک معتین طریق ہے جسے اختیار کئے بغیر وہ مقصد حاصل نہیں ہوسکتا اور ہر مقصد کا حصول کچھ وقت بھی چاہتا ہے لیکن روحانی مقاصد کے متعلق یہ امید رکھتے ہیں کہ وہ صرف خواہش کرنے سے ہی فوراً حاصل ہو جایا کریں۔ایسا ہر گز نہیں ہوسکتا۔اور اگر عقل رکھتے ہو تو سوچو کہ ایسا ہونا بھی نہیں چاہئے۔حق یہی ہے چاہو تو قبول کرو کہ ہر مقصد کے حصول کے واسطے خواہ وہ مادی ہے یا رُوحانی ایک خاص طریق مقرر ہے اور Havas سورة النجم - آیت 23 156