ہمارا خدا — Page 15
خاک ہو جانا پسند کریگا مگر ایمان کو ہاتھ سے نہیں چھوڑیگا، لیکن میں کہتا ہوں کہ اگر تم ایمان کے اس مرتبہ سے اپنے آپ کو فروتر پاتے ہو تو کم از کم میرا تم سے یہ سوال ہے کہ کیا تم دیانتداری کے ساتھ یہ کہہ سکتے ہو کہ تمہارا ایمان ایک زندہ حقیقت کے طور پر تمہاری زندگی پر عملاً اثر انداز ہورہا ہے۔یعنی کیا تم اپنے دل میں واقعی اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کی ناراضگی کا خوف محسوس کرتے ہو اور کیا تمہارا ایمان تمہیں واقعی نیکی کی تحریک کرتا اور بدی سے روکتا ہے؟ اور کیا واقعی تمام اُمور میں تمہارا اصل بھروسہ خدا پر ہوتا ہے اور مادی اسباب پر نہیں ہوتا ؟ میرا یہ مطلب نہیں کہ کیا تم بھی اپنے دل میں خدا کے ساتھ وابستگی محسوس کرتے ہو یا نہیں یا کبھی اللہ تعالیٰ کا خیال تمہیں گناہ سے روکتا اور نیکی کی تحریک کرتا ہے یا نہیں یا کبھی مادی اسباب سے آگے گذر کر تمہاری نظر خدا تک پہنچتی ہے یا نہیں؟ کیونکہ کبھی کبھی ایسا ہو جانا ایمان کی حالت کا نتیجہ نہیں کہلا سکتا۔بلکہ ایسی حالت اُس شخص کی بھی ہوسکتی ہے جسے صرف اس قدر بصیرت حاصل ہے کہ وہ خدا کا انکار نہیں کرتا اور گاہے گا ہے اُس کی طبیعت میں یہ خیال بھی پیدا ہو جاتا ہے کہ شاید واقعی کوئی خدا ہو جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور جو اس تمام کارخانہ عالم کا چلانے والا ہے اور جس کے سامنے کسی دن میں نے کھڑا ہونا ہے۔ایسا شخص یقیناً کبھی کبھی خدا کے اس خیالی بت کے ساتھ ایک حد تک وابستگی محسوس کر یگا اور اس کا یہ خیال کبھی کبھی اُسے گناہ سے بھی روکے گا اور کبھی کبھی نیکی کی بھی تحریک کریگا اور گاہے گا ہے اُس کی نظر مادی اسباب سے گذر کر خدا تک بھی پہنچے گی اور وہ محسوس کریگا کہ اصل بھروسہ کے قابل صرف خدا کی ذات ہے لیکن ظاہر ہے کہ یہ حالت ایمان کی حالت نہیں کہلا سکتی بلکہ دراصل ایک شک کی حالت ہے جو اس کی طبیعت میں کبھی ایک طرف کا اور کبھی دوسری طرف کا اثر پیدا کرتی رہتی ہے ایمان کی حالت تبھی سمجھی جائیگی جب خدا کے متعلق ایک زندہ یقین کی صورت پیدا ہو جائے اور یہ 15