ہمارا خدا

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 128 of 255

ہمارا خدا — Page 128

وو الفاظ میں ” ہونا چاہئے“ اور ” ہے“ کے مرتبوں میں جو فرق ہے اس کو اس طرح ظاہر کر سکتے ہیں کہ ” ہونا چاہئے“ والے مرتبہ میں تو ہم خدا کی ذات پر دلائل کی مدد سے ایمان لاتے ہیں اور ” ہے“ والے مرتبہ میں دلائل کا واسطہ نہیں رہتا بلکہ گویا مشاہدہ کا رنگ پیدا ہو جاتا ہے۔اس موقعہ پر یقین کے باقی دو درجوں کا ذکر کر دینا بھی خالی از فائدہ نہ ہوگا جو قرآن شریف نے بیان فرمائے ہیں۔پہلا مرتبہ جس کا ذکر اوپر گذر چکا ہے علم الیقین“ کا مرتبہ ہے اور یہ بتایا جا چکا ہے کہ یہ وہ مرتبہ ہے کہ جس میں آثار سے علمی استدلال کے طور پر کسی چیز کے متعلق یقین حاصل کیا جاتا ہے۔دوسرا مرتبہ عین الیقین“ کا مرتبہ ہے اس میں استدلال کا واسطہ نہیں رہتا بلکہ مشاہدہ کی ابتداء شروع ہو جاتی ہے۔مثلاً وہی آگ والی مثال لے کر ہم کہہ سکتے ہیں کہ جب ہم اس دھوئیں کی سمت میں چلتے چلتے آخر آگ کی روشنی کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا شروع کر دیتے ہیں تو پھر ہمیں اس کے متعلق صرف ” علم الیقین نہیں رہتا بلکہ عین الیقین“ حاصل ہو جاتا ہے۔یعنی ایسا یقین حاصل ہو جاتا ہے جو براہِ راست رؤیت سے پیدا ہوتا ہے اور اس میں استدلال کا دخل نہیں ہوتا۔اس مرتبہ کے اوپر ایک تیسرا مرتبہ بھی ہے جسے قرآن شریف کی اصطلاح میں حق الیقین“ کہتے ہیں۔یہ مقام انسان کو تب حاصل ہوتا ہے کہ جب وہ آگ سے اتنا قریب ہو جاتا ہے کہ اس کی گرمی کو محسوس کرنے لگ جاتا ہے۔بالفاظ دیگر آگ کے اس طبعی اور ممتاز خاصہ کو جوگرمی کے نام سے موسوم ہے خود اپنے نفس میں محسوس کرنا شروع کر دیتا ہے۔اور دوسری طرف وہ آگ کی روشنی کو صرف دیکھتا ہی نہیں بلکہ قرب کی وجہ سے اس کی تپش سے فائدہ بھی اُٹھاتا ہے اور اس کی روشنی کے ذریعہ صحیح اور غلط راستے میں امتیاز بھی کر سکتا ہے۔یہ وہ انتہائی مرتبہ یقین کا ہے جس کے اوپر کوئی اور مرتبہ نہیں۔128