ہمارا گھر ہماری جنت — Page 50
پہلے تھا اب بھی وہی ہے۔اپنی روٹین میں فرق نہیں آنے دیا۔آپ کھانے میں کبھی نقص نہیں نکالتے۔رزق کا ضیاع بالکل پسند نہیں۔حضور انور ایدہ اللہ کے خلیفہ بننے کے بعد کی بات ہے کہ ایک بار میری طبیعت بہت خراب تھی۔سر درد کا شدید دورہ ہوا تھا تو حضور نے پہلے میرے لئے ناشتہ تیار کر کے مجھے دیا۔پھر اپنا ناشتہ تیار کرنے کے بعد دفتر گئے۔اب بھی باوجود بے انتہاء مصروف زندگی کے گلدانوں میں پھول لگانا، پودوں کی کانٹ چھانٹ کرنا، ایسے کام کر لیتے ہیں۔(ماہنامہ تشخيذ الاذہان ستمبر اکتوبر 2008ء صفحہ 15 تا22) ارشاد حضرت خلیفۃ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز آپ فرماتے ہیں :۔آج کل دیکھیں ذرا ذراسی بات پر عورت پر ہاتھ اُٹھا لیا جاتا ہے۔حالانکہ جہاں عورت کوسزا کی اجازت ہے وہاں بہت سی شرائط ہیں اپنی مرضی کی اجازت نہیں ہے۔چند شرائط ہیں ان کے ساتھ یہ اجازت ہے اور شاید ہی کوئی احمدی عورت اس حد تک ہو کہ جہاں اس سزا کی ضرورت پڑے اس لئے بہانے تلاش کرنے کی بجائے مردا اپنی ذمہ داریاں سمجھیں اور عورتوں کے حقوق ادا کریں۔“ (خطبات مسرور جلد دوم صفحہ 448) اللہ تعالیٰ نے مرد کے قومی کو جسمانی لحاظ سے مضبوط بنایا ہے اس لئے اس کی ذمہ داریاں اور فرائض بھی عورت سے زیادہ ہیں اس سے ادا ئیگی حقوق کی زیادہ توقع کی جاتی ہے۔عبادات میں بھی اس کو عورت کی نسبت زیادہ مواقع مہیا کئے گئے ہیں اور اس لئے اس کو گھر کے سر براہ کی حیثیت بھی حاصل ہے اور اسی وجہ سے اس پر بحیثیت باپ اس پر ذمہ داریاں ڈالی گئیں ہیں اور بہت سی ذمہ داریاں ہیں، چند ایک میں یہاں ذکر کروں گا اور ان ذمہ 50 50